اے آئی حاضری ایپ کے نام پر ڈاکٹروں کی تذلیل اور تنخواہوں میں کٹوتیاں ناقابل قبول ہیں، پی ایم اے

کوئٹہ(این این آئی) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کوئٹہ زون کے ترجمان نے کہا ہے کہ پی ایم اے حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت کی جانب سے نافذ کردہ نام نہاد AI حاضری ایپ، ڈاکٹروں کی مسلسل تذلیل اور تنخواہوں کی ظالمانہ کٹوتیوں پر شدید احتجاج اور برہمی کا اظہار کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ بلوچستان بھر کے ڈاکٹرز 36 گھنٹے کی مسلسل اور انتہائی کٹھن ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں ڈاکٹرز روزانہ اس ناکارہ ایپ پر حاضری لگانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن تکنیکی نقائص اور نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے باعث ایپ پر حاضری درج کرنے کے باوجود انہیں ‘غیر حاضر’ (Absent) دکھایا جا رہا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ محکمہ صحت کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک بی ایم سی ہسپتال کے 480 سے زائد ڈاکٹروں کو پورے مہینے کے لیے غیر حاضر ظاہر کیا گیا ہے، جو کہ سراسر ناقابلِ یقین اور مضحکہ خیز ہے پی ایم اے سوال کرتی ہے کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود نہیں ہیں، تو ہسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریضوں کا علاج اور 36 گھنٹے کی ڈیوٹیاں کون سی “خلائی مخلوق” کر رہی ہے؟۔ترجمان نے کہا کہ حاضری کی پڑتال کا ایک بنیادی اور قانونی طریقہ کار ہوتا ہے حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ AI کے ڈرامے رچانے کے بجائے تمام ہسپتالوں کے شعبہ جات کے سربراہان (HODs)، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS)، اور ڈی ایم ایس (DMS) سے دستی (Manual) رپورٹس اور آفیشل ڈیوٹی روسٹر حاصل کرتی اگر کسی ڈاکٹر کی ڈیوٹی کے دن وہ واقعی غیر حاضر پایا جائے تو پی ایم اے کبھی بھی ایسے شخص کی حمایت نہیں کرے گی لیکن جو ڈاکٹرز اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دے رہے ہیں ان کی حاضری کو تسلیم نہ کرنا اور ان کی روزی روٹی پر ڈاکہ ڈالنا کھلم کھلا ظلم ہے۔ترجمان نے کہا کہ محکمہ صحت نے اپنے کچھ من پسند لوگوں کو خوش کرنے کے لیے غریب اور محنت کش ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں غیر قانونی کٹوتیاں کر کے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کیے ہیں اور اپنے ہی لوگوں کی ماؤں اور بہنوں کی بددعائیں سمیٹی ہیں بلوچستان کے پیریفری (دور دراز) علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ اور بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، وہاں AI کا نفاذ صرف ایک مذاق اور انتقامی کارروائی ہے۔ترجمان نے کہا کہ پی ایم اے کوئٹہ زون مطالبہ کرتی ہے کہ اس ناکارہ اور ناقص AI حاضری ایپ کا نفاذ فوری طور پر معطل کیا جائے، تمام ہسپتالوں میں حاضری کی تصدیق MS، DMS اور HODs کے جاری کردہ آفیشل ڈیوٹی روسٹر اور دستی رپورٹ کے مطابق کی جائے، ڈاکٹروں کی تنخواہوں سے کی گئی تمام غیر قانونی کٹوتیاں فوراً واپس کی جائیں،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون، حکومت بلوچستان اور اعلیٰ حکام سے مودبانہ اور پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری اور سنجیدگی سے نوٹس لیں ڈاکٹر برادری کی مشکلات اور معاشی تحفظ کا خیال رکھتے ہوئے اس مسئلے کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کیا جائے تاکہ تمام ڈاکٹرز یکسوئی اور مکمل توجہ کے ساتھ عوام کی خدمت کا اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں