کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمہ کے اتحاد (ایوان جی الائنس)اور عورت فانڈیشن نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں کے خلاف تشدد، مبینہ قتل، تیزاب گردی، جنسی زیادتی اور دیگر سنگین واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعات کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کچلاک میں 15 سالہ لڑکی کا اپنے شوہر کے ہاتھوں مبینہ قتل، مستونگ کے کلی ببری میں خاتون پر مبینہ تیزاب گردی و تشدد، تربت میں خاتون کی لاش کی برآمدگی اور نوشکی کے احمد وال میں 9 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، قتل اور لاش چھپانے جیسے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔اتحادی اداروں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں، خصوصا کم عمر بچیوں سے جنسی زیادتی، قتل اور خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر خاتون اور بچی کو زندگی، عزت، تحفظ اور انصاف کا حق فراہم کرے۔ انہوں نے سول ہسپتال نوشکی سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں پوسٹ مارٹم اور فرانزک سہولیات کی عدم دستیابی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے تمام اضلاع، خصوصا دور دراز علاقوں میں طبی، فرانزک، نفسیاتی اور قانونی سہولیات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ صرف مقدمات کا اندراج کافی نہیں بلکہ متاثرہ خواتین اور بچیوں کو تحفظ، رازداری، طبی علاج، نفسیاتی معاونت، قانونی امداد اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ پولیس، صحت، پراسیکیوشن، سماجی بہبود اور محکمہ حقوق نسواں سمیت متعلقہ اداروں کے درمیان مثر رابطہ اور مربوط نظام قائم کیا جائے۔ اتحادی اداروں نے وزیراعلی بلوچستان، وزیر داخلہ، وزیر صحت اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعات کا اعلی سطحی نوٹس لے کر ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور مثر پیروی کے ذریعے متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد پر خاموشی مزید تشدد کو جنم دیتی ہے، اس لیے حکومت زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت فوری اور مثر اقدامات کرے۔

