کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام میں گزشتہ تین سال کے دوران صرف 12.43 فیصد طبعی اور 10 فیصد مالی پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو زیر التوا آڈٹ اعتراضات دور کرنے اور تمام مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کردی، جبکہ کمیٹی رکن عبیداللہ گورگیج نے خبردار کیا کہ پی اے سی کی ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوایا جاسکتا ہے پی اے سی نے منصوبے کے تحت نرسریوں، شجرکاری اور دیگر سرگرمیوں پر خطیر سرکاری رقم خرچ ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج سامنے نہ آنے پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی کے مطابق 15 ارب روپے سے زائد مالیت کے اس منصوبے پر اب تک 6 ارب 35 کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔بلوچستان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی اراکین عبیداللہ گورگیج، صفیہ فضل، فضل قادر مندوخیل اور محمد خان لہڑی نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری جنگلات عمران گچکی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، اسپیشل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام (فاریسٹری اینڈ وائلڈ لائف کمپوننٹس)، حکومت بلوچستان کے مالی سال 2019-22 کے خصوصی آڈٹ سے متعلق آڈٹ رپورٹ 2022-23 کے مختلف پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور محکمہ کی جانب سے منصوبے کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ آڈٹ رپورٹ کی تکمیل سے قبل مذکورہ پیراز پر ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) کا اجلاس منعقد نہیں ہوا تھا، جس کے باعث پی اے سی نے خصوصی آڈٹ کی ہدایت کی تھی۔ تاہم خصوصی آڈٹ سے متعلق رپورٹ تاحال پی اے سی کو موصول نہ ہونے پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔آڈٹ پیرا 4.1.1 کے تحت ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کی سرگرمیوں میں سست روی کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ کے مطابق منصوبے کی مدت کے دوران مختلف پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹس (PIUs) میں افسران کے بار بار تبادلوں اور پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (PMU) میں ضروری اسامیوں پر بروقت تعیناتی نہ ہونے کے باعث منصوبے کی مالی اور طبعی پیش رفت متاثر ہوئی۔آڈٹ کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران منصوبے کی مجموعی طبعی پیش رفت صرف 12.43 فیصد جبکہ مالی پیش رفت 10 فیصد رہی۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام سے منصوبے کی سست روی کی وجوہات اور موجودہ صورتحال کے بارے میں وضاحت طلب کی۔پی اے سی نے ہدایت کی کہ چونکہ مذکورہ پیراز پر پہلے ڈی اے سی کا اجلاس منعقد نہیں ہوا تھا، اس لیے انہیں ڈی اے سی کو بھیجا جائے اور ڈی اے سی مقررہ مدت میں اجلاس منعقد کرکے اپنی سفارشات پی اے سی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈی اے سی کا پہلا اجلاس 12 نومبر 2025 کو منعقد ہوچکا ہے، تاہم آڈٹ حکام کے مطابق محکمہ کی جانب سے منصوبے کی فزیکل ویری فکیشن کے عمل میں تاحال مطلوبہ تعاون نہیں کیا جارہا۔کمیٹی نے محکمہ کو ہدایت کی کہ 20 روز کے اندر آڈٹ حکام کو مطمئن کرکے فزیکل ویری فکیشن کا عمل مکمل کیا جائے اور پیش رفت سے پی اے سی کو آگاہ کیا جائے۔اجلاس میں منصوبے کے تحت نرسری انفراسٹرکچر کے اہداف پورے نہ ہونے سے متعلق 55.420 ملین روپے کے مالی نقصان کے آڈٹ پیرا کا بھی جائزہ لیا گیا۔آڈٹ کے مطابق منصوبے کے تحت بلوچستان میں 70 نرسری سائٹس قائم، ترقی یافتہ یا اپ گریڈ کی جانی تھیں، تاہم مختلف پی آئی یوز میں مطلوبہ نرسری انفراسٹرکچر قائم نہ کیے جانے کے باعث منصوبے کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔کمیٹی نے آڈٹ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تحت قائم کی جانے والی نرسریوں کی مجموعی تعداد، مکمل ہونے والی نرسریوں اور متعلقہ محکموں کے حوالے کی جانے والی نرسریوں کی تفصیلات حاصل کرکے پی اے سی کے سامنے پیش کی جائیں۔اجلاس میں GIS/FMIS نظام کے مؤثر طور پر قائم نہ ہونے سے متعلق آڈٹ پیرا بھی زیر غور آیا۔ آڈٹ کے مطابق اس نظام کا مقصد منصوبے کی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی، ڈیٹا کے حصول اور پیش رفت کا بروقت جائزہ لینا تھا، تاہم مطلوبہ نظام کے مؤثر قیام نہ ہونے سے منصوبے کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ متاثر ہوئی۔چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے خصوصی ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس اور زیر التوا معاملات میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کو بارہا وقت دیا گیا، تاہم مطلوبہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔کمیٹی نے متعلقہ محکمہ کو مزید 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام زیر التوا معاملات مکمل کرکے آڈٹ حکام کو مطمئن کیا جائے اور پی اے سی کو پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ ذمہ داری کا تعین ہونے کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔اجلاس میں ضلع کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے مؤثر کردار کے بغیر شجرکاری سرگرمیوں پر 1,236.719 ملین روپے کے اخراجات سے متعلق آڈٹ پیرا بھی تفصیلی طور پر زیر بحث آیا۔آڈٹ کے مطابق مختلف پی آئی یوز کی جانب سے شجرکاری کے لیے پودوں کی خرید اور کاشت پر مذکورہ رقم خرچ کی گئی، تاہم متعلقہ اضلاع میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے اجلاس منعقد نہیں کیے گئے اور شجرکاری کے مقامات کے انتخاب سمیت متعلقہ محکموں کی ضروریات کے تعین کے لیے مطلوبہ مشاورت نہیں کی گئی۔کمیٹی نے خطیر عوامی رقم کے استعمال کے پیش نظر ہدایت کی کہ آڈٹ کو موصول ہونے والے ریکارڈ کی مزید تصدیق متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے کرائی جائے تاکہ اخراجات، شجرکاری کے مقامات اور منصوبے کے عملی نتائج کی مکمل جانچ پڑتال ہوسکے۔اجلاس میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات سے متعلق بعض آڈٹ پیراز مطلوبہ ریکارڈ اور وضاحتیں فراہم کیے جانے کے بعد سیٹل کردیے گئے جبکہ دیگر پیراز کے لیے محکمہ کو مقررہ مدت میں مطلوبہ کارروائی مکمل کرنے کے لیے وقت دیا گیا۔دوران اجلاس چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے آڈٹ حکام کو ایک مقام پر محکمہ جنگلات کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے گھر کے معاملے کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ ان کے مطابق مذکورہ نوعیت کا تعمیراتی کام محکمہ جنگلات کے بجائے محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کے دائرہ کار سے متعلق ہے۔ آڈٹ حکام کو معاملے کی جانچ کرکے حقائق کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام 15 ارب روپے سے زائد کا وسیع اور اہم منصوبہ ہے جس پر اب تک 6 ارب 35 کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، تاہم گزشتہ دس سال سے جاری منصوبے میں اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود محکمہ کی عملی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔کمیٹی رکن عبیداللہ گورگیج نے کہا کہ اسی لیے تمام نرسریوں کی شفافیت کی تصدیق متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا کمشنر سے کرائی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر محکمہ نے پی اے سی کی ہدایات پر عملدرآمد نہ کیا تو کیس کارروائی کے لیے نیب کے حوالے کردیا جائے گا۔چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے واضح کیا کہ کمیٹی غیر ضروری تاخیر اور بار بار وقت دینے کے عمل کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر مطلوبہ ریکارڈ، جوابات اور رپورٹس فراہم کریں تاکہ عوامی فنڈز کے استعمال، منصوبے کی کارکردگی اور آڈٹ اعتراضات سے متعلق معاملات کو شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بعض پیراز پر محکمہ کی جانب سے جوابات موصول ہوچکے ہیں جبکہ فراہم کردہ اعداد و شمار کی تصدیق بھی کی جاچکی ہے۔

