جی 20 اجلاس میں ممکنہ پیوٹن،زیلنسکی ملاقات روس،یوکرین جنگ کے خاتمے کی جانب اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ: چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار، سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے دسمبر میں میامی میں ہونے والے جی 20 اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات پر آمادگی روسطیوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ایک اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم روسی صدر کی اجلاس میں شرکت اور دونوں رہنماؤں کی ملاقات تاحال حتمی نہیں ہوئی۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پائیدار قیامِ امن کے لیے دونوں رہنماؤں کو ملاقات، براہِ راست بات چیت اور نتیجہ خیز فیصلوں کی جانب بڑھنا ہوگا۔ روس کی جانب سے زیلنسکی کو ماسکو میں مذاکرات کی دعوت پہلے ہی دی جا چکی ہے، تاہم جی 20 جیسے غیر جانب دار عالمی پلیٹ فارم کے موقع پر براہِ راست ملاقات زیادہ قابلِ عمل راستہ فراہم کر سکتی ہے۔

سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پیوٹنطزیلنسکی ملاقات محض ایک رسمی سفارتی رابطہ نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے جنگ بندی اور مستقل امن کی جانب حقیقی پیش رفت کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔ مذاکرات میں سلامتی کی ضمانتوں، علاقائی و سرحدی تنازعات، قیدیوں کے تبادلے، توانائی اور غذائی تنصیبات کے تحفظ، جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو اور مستقبل کے سیاسی انتظام پر قابلِ عمل اتفاق ناگزیر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار سال سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ نے نہ صرف روس اور یوکرین بلکہ پورے یورپ کی سلامتی، معیشت اور توانائی کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ بڑے پیمانے پر جانی نقصان، لاکھوں افراد کی نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور مسلسل بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات اس تنازعے کو مزید طول دینے کے سنگین نتائج کو نمایاں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ روسطیوکرین جنگ بندی کے علاقائی اور عالمی اثرات بھی انتہائی مثبت ہوں گے۔
یورپ میں کشیدگی کم ہونے، توانائی اور غذائی منڈیوں میں استحکام آنے اور روس و مغرب کے درمیان سفارتی روابط کی بحالی کے امکانات پیدا ہوں گے۔ عالمی سطح پر تیل، گیس، اناج اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے سے ترقی پذیر ممالک کو بھی ریلیف ملے گا اور عالمی معیشت کو تقویت حاصل ہوگی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے مزید کہا کہ جی 20 اجلاس اس مقصد کے لیے ایک مؤثر سفارتی پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو فریقین کے درمیان اعتماد سازی، براہِ راست مذاکرات اور مستقل جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔ عالمی برادری کو جنگ کے تسلسل کی بجائے مذاکرات اور سیاسی حل کے ہر ممکن راستے کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ ساڑھے چار سال سے جاری تباہ کن جنگ کے بعد امن کا کوئی سنجیدہ موقع ضائع کرنا روس، یوکرین، یورپ یا عالمی برادری، کسی کے مفاد میں نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں