ْپیپلز پارٹی بلوچستان اجلاس، وزرا پر نوکریاں فروخت کرنے کے الزامات، کارکنوں میں تلخ کلامی

کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے ڈویژنل و ضلعی عہدیداروں نے پارٹی کے صوبائی وزرا اور مخصوص نشستوں پر کامیاب خواتین ارکان اسمبلی کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے، جبکہ بعض عہدیداروں کی جانب سے وزرا پر سرکاری نوکریاں فروخت کرنے کے الزامات عائد کیے جانے پر اجلاس میں شدید تلخ کلامی ہوئی اور حامی و مخالف گروپوں نے ایک دوسرے کے خلاف چور، چور کے نعرے لگائے، جس سے اجلاس میں بدنظمی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
پیپلز پارٹی کی صوبائی ایگزیکٹو کمیٹی، ڈویژنل و ضلعی صدور، جنرل سیکرٹریز اور دیگر عہدیداروں کا اجلاس صوبائی صدر و سینیٹر سردار عمر خان گورگیج اور مرکزی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن و سابق وفاقی وزیر سردار باز محمد کھیتران کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں بعض عہدیداروں نے صوبائی وزرا پر اپنے اضلاع میں سرکاری نوکریاں فروخت کرنے کے الزامات عائد کیے، جس پر وزرا کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

پارٹی کے سینئر رہنماں نے مداخلت کرتے ہوئے عہدیداروں اور کارکنوں کو صبر و تحمل سے کام لینے کی ہدایت کی۔اجلاس میں مخصوص نشستوں پر کامیاب پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان اسمبلی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مقررین نے کہا کہ صوبے بھر میں قربانیاں اور شہادتیں کارکن دے رہے ہیں جبکہ فائدے اور مراعات وزرا اور ان کے حامی حاصل کررہے ہیں، جو قابل قبول نہیں۔ڈویژنل، ضلعی اور صوبائی کونسل کے عہدیداروں نے پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر وہ عہدہ مثر انداز میں نہیں چلا سکتے تو مستعفی ہوکر کسی فعال کارکن کو موقع دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں