کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ (ق)کے مرکزی نائب صدر ایس آر ناصر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی کاموں میں بہتری حکام بالا کی نگرانی کا نتیجہ ہے، اگر اسی طرح ترقیاتی فنڈز کی نگرانی جاری رہی تو بلوچستان کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔پارٹی کے سینئر ساتھیوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کے لیے اربوں، کھربوں روپے کے فنڈز مختص ہوئے، تاہم ان کے بقول عملی سطح پر اس کا خاطرخواہ فائدہ نظر نہیں آیا، جس کے باعث صوبہ دیگر علاقوں سے پیچھے رہ گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن اور بدعنوانی نے صوبے کی ترقی کو متاثر کیا۔ایس آر ناصر نے کہا کہ گزشتہ سال سے ترقیاتی کاموں کی نگرانی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے سپرد کیے جانے کے بعد صوبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے دکی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال تک شہر کی حالت انتہائی خراب تھی، تاہم ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں ترقیاتی سرگرمیوں سے صورتحال تبدیل ہوئی ہے، جس کا عوام خیرمقدم کر رہے ہیں۔
انہوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ افسران کو تنخواہوں تک محدود رکھا جائے، رشوت، کمیشن اور اقربا پروری کا خاتمہ کیا جائے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے قائد سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کی تجویز کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی رائے شامل کرکے حکومت اور اپوزیشن کو مشترکہ فیصلہ کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی فریق کو شکایت نہ رہے۔

