جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے شمالی کوریا کے دو جنگی قیدیوں کو جنوبی کوریا منتقل کیے جانے کی معلومات ظاہر کرکے رازداری کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
صدر لی کا یہ بیان زیلنسکی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ زیلنسکی نے اپنے خطاب میں بتایا تھا کہ یوکرین نے حال ہی میں روس کے خلاف جنگ میں گرفتار کیے گئے شمالی کوریا کے دو فوجیوں کو جنوبی کوریا بھیجا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ یوکرین نے یہ معاملہ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیوں کیا، تاہم وہ اس پر انتہائی مایوس ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے کو خفیہ رکھنے پر اتفاق ہوا تھا، کیونکہ اس کی تشہیر سے سفارتی اور سکیورٹی سمیت کئی مسائل پیدا ہوسکتے تھے۔
یہ دونوں شمالی کوریائی فوجی جنوری 2025 میں روس کے کرسک علاقے میں یوکرینی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے۔ انہیں روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے تعینات کیے گئے شمالی کوریائی فوجیوں میں شامل بتایا گیا ہے۔ دونوں قیدیوں نے جنوبی کوریا جانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے پہلے زیلنسکی کے بیان کی تردید نہیں کی تھی، تاہم اس نے دونوں قیدیوں کی منتقلی کے وقت، راستے اور دیگر آپریشنل تفصیلات کی تصدیق سے گریز کیا تھا۔ وزارت کے مطابق یہ معاملہ قیدیوں اور ان کے خاندانوں کی سلامتی سے متعلق ہے۔
دوسری جانب یوکرینی صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ دونوں قیدیوں کی جنوبی کوریا منتقلی سیول کے ساتھ براہِ راست رابطے اور بات چیت کے ذریعے ہوئی۔ جنوبی کوریا اور یوکرین پہلے ہی اس معاملے کو بین الاقوامی قانون اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق حل کرنے پر اتفاق کرچکے ہیں۔

