عوامی مینڈیٹ کا قتل، صوبائی خودمختاری پر حملہ اور جمہوری حقِ حکمرانی سلب کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے،تالعمند خان

کوئٹہ(این این آئی) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تالعمند خان نے صوبہ خیبر پشتونخوا میں نام نہاد قومی ایمرجنسی کے اعلان اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ کا قتل، ان کے حقِ حکمرانی پر شب خون اور وفاقی پارلیمانی جمہوریت کی روح کے منافی اقدام قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس غیر جمہوری اقدام کا مقصد محض انتظامی اختیارات کی تبدیلی نہیں، بلکہ صوبے کی منتخب سیاسی قیادت کو بے اختیار کرکے عوام کے سیاسی فیصلے کو غیر مؤثر بنانا، صوبائی حکومت کو دباؤ میں لانا اور ریاستی طاقت کے ذریعے سیاست، جمہوری اختلاف اور عوامی تحریکوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ قومی سلامتی اور امن و امان جیسے حساس معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرکے عوام کے حقِ حکمرانی پر قدغن لگانا جمہوریت کی نفی اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔تالعمند خان نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے والی وفاقی حکومت، اس کے اتحادیوں اور ان کے پشت پناہوں نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بالادستی، آئین کی حکمرانی اور صوبائی خودمختاری کے بجائے غیر جمہوری قوتوں کی مرضی کو فوقیت دے رہے ہیں۔ بندوق کی طاقت اور انتظامی جبر کے ذریعے مسلط کردہ فیصلے عوام کی سیاسی مرضی کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادیوں کو سمجھنا چاہیے کہ جمہوری اصولوں سے انحراف اور عوامی مینڈیٹ کی توہین بالآخر ان کی اپنی سیاسی ساکھ اور مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ خیبر پشتونخوا سمیت ملک میں دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی اقتدار پر قبضے، منتخب حکومتوں کو کمزور کرنے اور جمہوری قوتوں کو دبانے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اگر امن و امان کی صورتِ حال کو عوامی نمائندگی اور صوبائی خودمختاری سلب کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوگا، بلکہ سیاسی بے چینی، وفاقی بحران اور ریاست و عوام کے درمیان فاصلے مزید بڑھیں گے۔ دہشت گردی کا مقابلہ عوام کے اعتماد، آئین کی بالادستی، پارلیمانی نگرانی اور جمہوری سیاسی عمل کو مضبوط بنا کر ہی کیا جاسکتا ہے، نہ کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو بے اختیار کرکے۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے خبردار کیا کہ قومی ایمرجنسی اور گورنر راج کے نام پر غیر معمولی اختیارات کا سیاسی استعمال جمہوری نظام کو کھوکھلا کرنے، صوبائی خودمختاری کو پامال کرنے اور وفاقی پارلیمانی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا خطرناک راستہ ہے۔ جمہوریت محض انتخابات اور اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں، بلکہ عوام کے فیصلے کا احترام، منتخب حکومتوں کی آئینی حیثیت، سیاسی اختلاف کی آزادی اور اقتدار کو عوام کے سامنے جواب دہ بنانے کا نظام ہے۔تالعمند خان نے تمام جمہوری سیاسی جماعتوں، پارلیمانی قوتوں، وکلا، صحافیوں، سول سوسائٹی اور جمہوریت پسند عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ، آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور جمہوری حقِ حکمرانی کے تحفظ کے لیے متحد ہوکر آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج خیبر پختونخوا کے عوام کے منتخب حقِ حکمرانی کا دفاع دراصل پورے پاکستان کے وفاقی اور پارلیمانی جمہوری مستقبل کا دفاع ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں عوامی مینڈیٹ اور منتخب نمائندہ حکومت کے آئینی اختیار کو غیر مؤثر بنانے کے تمام اقدامات واپس لیے جائیں اور قومی سلامتی و امن و امان کے معاملات کو سیاسی انجینئرنگ کے بجائے آئین، قانون، پارلیمانی نگرانی اور عوامی اعتماد کے تابع بنایا جائے۔تالعمند خان نے واضح کیا کہ عوام کی حاکمیت کو بندوق، جبر یا انتظامی فرمان کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی بقا، استحکام اور وفاقی وحدت کا راستہ صرف آئین کی حکمرانی، حقیقی جمہوریت اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کے احترام سے ہوکر گزرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں