حب کی ترقی محض عوام سے کیا گیا وعدہ نہیں بلکہ ایک عزم اور ایک مشن ہے۔ میر علی حسن زہری

حب ( رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنم، ترجمان صدر آصف علی زرداری و سینئر صوبائی نائب صدر پی پی پی بلوچستاان میر علی حسن زہری نے کہا ہے کہ ضلع حب کو ایک مثالی، ترقی یافتہ اور خوشحال ضلع بنانا ان کا پختہ عزم ہے۔ ماضی میں چالیس سالہ تاریک دور میں عوام کو جن محرومیوں، پسماندگی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا رہا، اب اس صورتحال کو بدلنے کا وقت آگیا ہے۔ ہم نے حب کو ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی راہ پر گامزن کرنے کا جو عزم کیا تھا، وہ اب عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔ جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت عوام کی خدمت اور مقصد علاقے کی خوشحالی ہو تو برسوں کی محرومیوں کو بھی ترقی کی روشنی میں بدلا جاسکتا ہے۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ ہماری سیاست اقتدار کے حصول کی نہیں، بلکہ عوام کی تقدیر بدلنے، محرومیوں کا ازالہ کرنے اور آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کی سیاست ہے۔ ہم کھوکھلے نعروں اور وقتی دعوؤں پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ عملی اقدامات، عوامی خدمت اور دیرپا ترقی کو اپنی سیاست کا بنیادی اصول سمجھتے ہیں۔ ضلع حب کے عوام نے طویل عرصے تک جن مسائل کا سامنا کیا، اب ان مسائل کے حل اور علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حب ماسٹر پلان ضلع حب کی ترقی کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس منصوبے کے ذریعے شہری آبادی کی ضروریات، بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، نکاسی آب، شہری سہولیات اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو ایک مربوط سمت دینے میں مدد ملے گی۔ حب ماسٹر پلان محض تعمیرات کا منصوبہ نہیں، بلکہ یہ حب کے شہری مستقبل کی نئی بنیاد ہے، جو آنے والے وقت میں اس شہر اور اس کے باسیوں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارا مقصد حب کو ایسا جدید اور منظم شہر بنانا ہے جہاں ترقی کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں، کاروبار کو فروغ ملے، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا ہوں اور عوام کو بہتر معیارِ زندگی میسر آئے۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ ضلع حب کی ترقی کا سفر کسی ایک علاقے یا مخصوص طبقے تک محدود نہیں، بلکہ اس میں پورے ضلع اور تمام آبادیوں کو شامل کرنا ہماری ترجیح ہے۔ دریجی سمیت ضلع کے دور دراز علاقوں کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کا حل بھی اسی وژن کا حصہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حب اور دریجی کے عوام کو ترقی کے یکساں مواقع میسر آئیں اور کسی بھی علاقے کو پسماندگی یا محرومی کا شکار نہ رہنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ دریجی میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال، نئی اور پرانی صف بندیوں اور مختلف حلقوں کی سرگرمیوں کے باوجود ہمارا راستہ واضح ہے۔ ہم ہر اس سیاسی طرزِ عمل کا جمہوری، آئینی اور عوامی قوت سے مقابلہ کریں گے جو علاقے کی ترقی، عوامی مفاد اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گا۔ سیاسی اختلاف ہر کسی کا حق ہے، لیکن عوام کے مستقبل، علاقے کی تعمیر و ترقی اور اجتماعی مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ میر علی حسن زہری نے مزید کہا کہ عوام کی طاقت سے بڑی کوئی طاقت نہیں، اور عوام کے اعتماد سے مضبوط کوئی سیاسی قوت نہیں۔ جو عناصر عوامی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، انہیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اب عوام اپنے مستقبل کے فیصلے شعور، کارکردگی اور عملی خدمت کی بنیاد پر کریں گے۔ ماضی میں بھی عوام نے ترقی مخالف اور مفاد پرست سیاست کو مسترد کیا ہے اور آئندہ بھی اپنے ووٹ، اتحاد اور جمہوری قوت کے ذریعے ایسے عناصر کو مسترد کریں گے۔ کسی بھی عوام یا ریاست مخالف سرگرمی کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی، اور امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری طاقت عوام ہیں، ہمارا سرمایہ عوام کا اعتماد ہے اور ہمارا سب سے بڑا مقصد عوام کی خوشحالی ہے۔ ہم عوام کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی منفی سیاسی مہم یا ترقی مخالف سوچ کو ضلع کی تعمیر و ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ ہماری جدوجہد کسی فرد یا گروہ کے خلاف ذاتی محاذ آرائی نہیں، بلکہ محرومیوں کے خاتمے، عوامی حقوق کے تحفظ اور ضلع حب کے روشن مستقبل کے لیے ہے۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ ترقی کا یہ سفر نہ کسی دباؤ سے رکے گا، نہ کسی مخالفت سے کمزور ہوگا اور نہ ہی مفاد پرست سیاست کے سامنے جھکے گا۔ ہم اپنے عوام کے تعاون، اعتماد اور حمایت سے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ ان منصوبوں کے ثمرات ہر گھر، ہر محلے اور ہر شہری تک پہنچیں۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ چالیس سال کی محرومیوں کو ترقی کی روشنی میں بدلنا ہمارا مشن ہے، حب ماسٹر پلان ہمارے روشن مستقبل کی بنیاد ہے اور عوام کی خوشحالی ہماری منزل ہے۔ ہم حب کو بدلنے نکلے ہیں اور عوام کے ساتھ مل کر اسے ایک مثالی ضلع بنا کر دکھائیں گے۔ اب حب کا مستقبل محرومی نہیں، ترقی؛ مایوسی نہیں، امید؛ اور پسماندگی نہیں، خوشحالی ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں