کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کے قائمقام امیر مولانا عبدالقادر لونی مرکزی جنرل سکرٹری مفتی شفیع الدین سرپرست اعلی مولانا ڈاکٹرشمس الھدی مرکزی جوائنٹ سیکرٹری مولانامحمودالحسن قاسمی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ ودیگر نے کہا کہ امریکہ اورٹرمپ کاجنگ بندی کابیانیہ دوغلہ پن سیاست کی عکاسی اوراسرائیل کوایران سے نقصانات وتباہی سے بچانے کی کوشش تھی اوردوسری جانب ٹرمپ نے اس سے چنددن قبل اقوام متحدہ چودہ ممالک کے اجلاس میں فلسطین جنگ بندی غزہ محاصرہ ختم کرنیکی قراردادکوویٹواستعمال کرکے مخالفت کی اورخطے کی امن تباہ کرنے کے لیے خطرناک کھیل امریکہ کھیلنے جارہا ہے انھوں نے ٹرمپ کونوبل امن کیلئے نامزگی کے مخالفت کرتے ہوئے ٹرمپ لاکھوں فلسطینیوں کے قتل میں برابرکے شریک ہے کسی قاتل نوبل انعام کیلئے نامزدگی افسوسناک ہیا انہوں کہاکہ آج بھی عالم اسلام متحد نہ ہوئے تو ایک ایک کو اس جنگ کی خمیازہ بھگتنا پڑیگا عالم اسلام پر جاری مظالم پر امریکہ کی لونڈی اقوام متحدہ کا دوغلا کردار پوری دنیا پر عیاں ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ امن اور انسانی تاریخ کے سینے پر ایک رستا ہوا ناسور ہے امریکہ کی منشاء پر اسرائیل نے فلسطین میں ظلم اور بربریت کا انتہا کردیا خطے میں بدامنی اور عدم استحکام سے امریکہ اپنی دھونس اور اجارہ داری قائم کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ امریکی جارحیت اور فساد سے نجات ملنے تک قیام امن ممکن نہیں۔ ان کی جارحانہ اور نام نہاد دہشتگردی کی جنگ میں لاکھوں مسلمانوں کے خون بہائے گئے دنیا کے کونے کونے میں امت مسلمہ عالمی استعماری قوتوں کی جبر و تشدد کے نشانہ پرہے دنیا کی کونے کونے میں امت مسلمہ بے بسی، اذیت ناک، انسانیت سوز مظالم کاسامنا کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی50 سے زائد ممالک بھی افغانستان میں جہاد ہی کی برکت سے ذلیل ہو کر نکل چکی۔ امریکہ اور اسرائیل اور بھارت کا واحدعلاج جہادہے انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری بدامنی،خون کی ہولی فساد امریکی جارحیت کا تسلسل ہے مذموم عزائم اور نام نہاد دہشت گردی کے جنگ کے نام پر پہلے سے اس خطہ کا امن برباد کیا اب خطے میں مزید بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں عالم اسلام حکمرانوں کے بے حسی اور بے بسی سے پورا خطہ اور اسلامی ممالک امن کے حوالے سے بہت بڑے خطرے سے دوچار ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل، مسلم اقوام و ممالک کی خودمختار اور باوقار حیثیت بحال کرنے کے لیے مسلم ممالک کے مابین اتحاد اور بہتر تعلقات ناگریز ہوچکی عالمی سامراج اور اس کے پالیسی ساز ادارے عالم اسلام کو کسی صورت متحد اور ترقی واستحکام دیکھنا نہیں چاہتے۔ وہ ایک ایجنڈے کے تحت عالم اسلام کو تقسیم کررہے ہیں درپیش چیلنجز کے نمٹنے کے لیے ہر او آئی سی اپنا کردار ادا کرے امریکہ اپنی پروردہ عالمی دہشت گرد اسرائیل کے ذریعے بدامنی سے پورا خطہ اور اسلامی ممالک امن کے حوالے سے بہت بڑے خطرے سے دوچار ہو رہے ہیں عالم اسلام صہیونی جارحیت کیخلاف کھڑے ہو کر منہ توڑ جواب دیا جائے جھادہی امریکہ اسرائیل مظالم بربرئیت سینجات کاواحدراستہ ہے

