کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ چالیس سالہ پابندیوں کے باوجود ایران نہ صرف عالمی سطح پر ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے بلکہ مسلم دنیا میں بھی اس کا قد کاٹھ اور وقار بڑھا اسرائیل جس کے پیچھے سپر پاور امریکہ کھڑا تھا کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑاجنگ میں ایران کے چار ہزار افراد، جن میں سینیئر عسکری اور سائنسی شخصیات شامل تھیں جاں بحق ہوئے لیکن اسکے باوجود ایرانی قوم نے استقامت اور استقلال کی تصویر پیش کی ایران کے اسرائیل پر تباہ کن حملوں کی وجہ سے اسرائیل کو ناقابلِ شکست سمجھنے کا تصور بھی ختم ہوا. ایرانی حملوں کی وجہ سے اسرائیل میں چھ سو سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اور بے انتہا مالی نقصان ہوا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار محمد عبدالقادر نے کہا کہ امریکی صدر جو خود کو مین آف پیس کہتے رہے اس جنگ میں شرکت کر کے اپنی ساکھ کو متاثر کر بیٹھے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے باوجود ایران کا نیوکلئیرپروگرام محفوظ رہا اور وہ بڑی طاقتوں کے سامنے نہ جھکا یہ ایران کی بڑی کامیابی ہے جنگ سے قبل توقع تھی کہ روس اور دیگر ممالک ایران کی مدد کو آئیں گے مگر حقیقت میں ایران کو تنہا لڑنا پڑا جبکہ اسرائیل کو امریکی اور یورپی ممالک کی حمایت حاصل تھی امریکہ تو ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی ہولناک تباہی دیکھتے ہوئے ایران پر حملہ آور ہو گیا امریکہ نے ایران کی فردو, نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات پر حملے کئے لیکن ایران افزودہ یورینیم محفوظ کرنے میں کامیاب رہا ایران نے دشمن کو جیتنے نہ دیا ایرانی قوم نے ایران کی رجیم کی تبدیلی کا امریکی اور اسرائیلی ایجنڈا خاک میں ملا دیا ایرانی رجیم بھی تبدیل نہ ہو سکی اور اس کا ایٹمی پروگرام بھی بچا رہا یہی اس کی اصل فتح ہے ایران اسرائیل جنگ کے دوران اقوام متحدہ، او آئی سی، سلامتی کونسل، عرب لیگ اور مسلم اْمہ نے مردہ جسد ثابت ہونے کا ثبوت دیا۔

