کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں موسم سرد ہونے کے ساتھ ہی گیس پریشر میں کمی اور بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے دوسری طرف گیس اور بجلی کے بھاری بل عوام کو بھیجے جارہے ہیں جسے عوام جمع کرانے کی استعداد نہیں رکھتے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ کوئٹہ کا شمار بلوچستان کے سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے کوئٹہ میں موسم سرد ہونے کے ساتھ ہی گیس پریشر دم توڑ چکا ہے اور خواتین کو کھانا پکانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ شہر کے لئے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری کیا گیا لیکن اس پر بھی عملدرآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آتا ہے جب گیس چلانے کیلئے چولہا جلایا جاتا ہے تو آدھا آدھا گھنٹہ گیس کی بجائے پائپ لائنوں میں ہوا آتی ہے جس سے صارفین کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ گیس پریشر میں کمی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کوئٹہ شہر کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور گیس پائپ لائنوں میں گیس کی بجائے ہوا آنے کی شکایات کا ازالہ کیا جائے بصورت دیگرعوام کے ساتھ ملکر احتجاج کا راستہ اپنائیں گے۔ لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ کوئٹہ شہر دارالحکومت ہونے کے باوجود مسائل کاگڑھ بن چکا ہے شہر میں 12سے 14گھنٹے کی طویل لوشیڈنگ کی جارہی ہے جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف گیس اوربجلی آتی نہیں ہے تو دوسری طرف عوام کو بھاری بل بھجوائے جارہے ہیں جنہیں جمع کرانے کی وہ استعداد نہیں رکھتے۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اورچیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ سے اپیل کی کہ وہ کوئٹہ شہر میں گیس اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بھاری بل بھجوانے کا نوٹس لیتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے فوری اقدامات کے احکامات جاری کریں۔

