کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علماء اسلام بلوچستان نے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں آٹے کی قیمت میں ہوش رْبا اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور ذخیرہ اندوزی نے غریب عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، دو وقت کی روٹی کا حصول محنت کش اور متوسط طبقے کے لیے بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اجلاسوں اور رسمی کارروائیوں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور آٹے کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے۔ جمعیت علماء اسلام بلوچستان نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کو مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے فوری طور پر آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے، مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے اور غریب خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، کیونکہ بنیادی غذائی ضرورت کی عدم دستیابی اور مسلسل بڑھتی قیمتیں عوام کے لیے شدید معاشی مشکلات پیدا کر رہی ہیں، جنہیں نظرانداز کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

