کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور صوبائی سیکرٹری جنرل آغا محمود شاہ نے کہا ہے کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف الزام تراشی اور کردار کشی کو سرکاری نمائندوں کی نوکریاں پکی کرنے کا آسان ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جب بھی جمعیت علماء اسلام پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں کامیاب عوامی اجتماعات منعقد کرتی ہے تو مخالفین جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی سیاسی وفاداری ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف منفی مہم چلانے کے لیے یوٹیوبرز اور غیر ذمہ دار عناصر کو استعمال کیا جاتا تھا، لیکن اب وفاقی اور صوبائی وزراء بھی اسی روش پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں، جو افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تمام حدود پار کرنے کے دعوے کرتے تھے، آج اسی کی ترجمانی کرکے اپنی وفاداری ثابت کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کے گورنر بھی سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے سیاسی بیان بازی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو اپنی حکومت کی ناکامیوں پر تنقید ناگوار گزر سکتی ہے، لیکن عوامی مسائل کی نشاندہی کرنا سیاسی قیادت اور میڈیا کی ذمہ داری ہے ناکامیوں پر خاموشی اختیار کرنا عوام کے ساتھ انصاف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبری تسلط پر قائم حکومت کو حقیقی عوامی تائید حاصل نہیں، جھوٹ اور فریب کے ذریعے آخر کب تک عوام کو گمراہ کیا جا سکتا ہے؟ حکومتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے قائد جمعیت کو نشانہ بنانے کے بجائے مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی جیسے سنگین مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی جدوجہد اور عوامی مقبولیت کسی حکومتی سرٹیفکیٹ کی محتاج نہیں، ان کی سیاسی حیثیت کا فیصلہ سوشل میڈیا کے کرائے کے پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ عوامی حمایت سے ہوگا۔ آغا محمود شاہ نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے کامیاب عوامی اجتماعات نے ثابت کر دیا ہے کہ عوامی اعتماد کو منفی مہمات اور کردار کشی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا؛ مخالفین کو چاہیے کہ وہ سیاسی میدان میں دلیل اور کارکردگی کے ساتھ مقابلہ کریں، نہ کہ جھوٹے الزامات اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا سہارا لیں۔

