خالد مسعود خان
میرا اپنے دو ہمسفروں کیساتھ ایک زبانی معاہدہ اپنی پوری صحت کیساتھ بخیر وخوبی چل رہا ہے اور معاہدہ یہ ہے کہ دورانِ سفر ہم آپس میں پاکستان کے سیاسی معاملات پر کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ بیرونِ ملک رہائش پذیر پاکستانیوں کی اکثریت کی مانند‘ یہ دونوں بھائی بھی عمران خان کے چاہنے والے ہیں اور زبان سے اقرار کیے بغیر خان کو اپنا مرشد مانتے ہیں۔ اگر انکے زبانی دعوے پر یقین کیا جائے تو وہ نیوٹرل ہیں‘ تاہم گفتگو کی جائے تو دو ڈھائی منٹ بعد انکے اندر سے ایک نہایت تگڑا یوتھیا برآمد ہوتا ہے اور معاملات بدمزگی کی جانب کھسکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ لہٰذا سفر کے دوران ماحول کو خوشگوار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ان معاملات پر گفتگو نہ کی جائے جہاں دلیل اور عقل کے بجائے جذبات اور عقیدت کو ہتھیار بنایا جائے۔ سو اس معاہدے کے طفیل راوی دورانِ سفر چین لکھتا ہے۔
بابر نے مجھے دو تین مختلف اپارٹمنٹس کی لوکیشن اور تصاویر پاکستان بھیجیں۔ ان میں سے ایک اپارٹمنٹ‘ جو تصاویر میں نہ صرف بہت صاف ستھرا دکھائی دیتا تھا بلکہ ہماری ضرورت کے عین مطابق بھی تھا۔ یہ تین انفرادی کمروں پر مشتمل ایک ایسی رہائش گاہ تھی جس میں دو باتھ روم‘ لاؤنج اور کچن موجود تھا۔ شہر کے وسط سے قریب دو کلو میٹر دور مین سڑک سے سو ڈیڑھ سو فٹ ہٹ کر اندر کی جانب واقع یہ اپارٹمنٹ مجھے چار روز رہنے کیلئے انتہائی مناسب نظر آیا تھا۔ رہائشگاہ کا مین سڑک سے تھوڑا ہٹ کر ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ رات بھر سڑک پر رواں ٹریفک کے شور سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اس اپارٹمنٹ کی دوسری خوبی یہ تھی کہ باہر سڑک پر نکلتے ہی بس اور ٹرام کا سٹاپ تھا۔ جو ہم جیسے مسافروں کیلئے بہت بڑی آسانی تھی۔ لہٰذا میں نے اس اپارٹمنٹ کو رہنے کیلئے پسند کرتے ہوئے بابر کو بتا دیا‘ اور بابر نے اس کی ادائیگی کر کے معاملہ نپٹا دیا۔ لیکن جب اس اپارٹمنٹ پر پہنچے تو چار فلیٹس پر مشتمل اس عمارت کے مرکزی داخلی دروازے کے عین سامنے نظر پڑی تو میری آدھی خوشی غارت ہو گئی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ محض انٹرنیٹ پر موجود نقشے پر رہائشگاہ کی لوکیشن دیکھ کر بھروسہ کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر چیز ٹھیک ہے۔ اس عمارت کے بالکل سامنے ایک چھوٹا سا ڈھابہ نما ہوٹل تھا جس کا نام بنی گالا ریسٹورنٹ تھا۔ اس ریسٹورنٹ کے بورڈ پر نظر پڑتے ہی بابر کی آنکھیں چمک اٹھیں‘ صابر کی باچھیں کھل گئیں اور میرا ماتھا ٹھنک گیا۔
مجھے پکا یقین تھا کہ ہر دو برادران شاید منہ سے تو کچھ نہیں بولیں گے لیکن بہر حال وہ کھانا یہیں کھانے پر اصرار کریں گے۔ ہم نے اپارٹمنٹ میں جا کر بیگ کھولے‘ کپڑے ہینگروں میں لٹکائے‘ منہ پر پانی کے چھینٹے مار تھوڑا سا تازہ دم ہوئے تو میں نے کوچ کا بگل بجایا۔ صابر کا خیال تھا کہ ابھی کچھ دیر آرام کیا جائے۔ میں نے کہا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے۔ اگر یہاں آ کر سونا ہی تھا تو میں یہ کام ملتان میں اور تم یہ کام مانچسٹر میں بھی کر سکتے تھے۔ اس کیلئے اتنے لمبے سفر کا تردد کرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی؟ ہمارے پاس چار دن ہیں اور ان چار دنوں میں جتنا زیادہ سے زیادہ لزبن دیکھا جا سکتا ہے وہ دیکھا جائے۔ صابر نے کہا کہ گاڑی بھی چلنے سے پہلے پٹرول مانگتی ہے اور مجھے یہ پتہ ہے کہ تم نے ہمیں پیدل چلا چلا کر مارنا ہے۔ ویسے بھی وہ پنجابی کی کہاوت ہے کہ ”پیٹ نہ پئیاں روٹیاں تے سبھے گلاں کھوٹیاں‘‘ اگر آرام نہیں کرنا تو خوار ہونے سے پہلے کھانا کھایا جائے۔ اپارٹمنٹ کے دروازے سے نکلتے ہی بابر کہنے لگا کہ یہ سامنے ریسٹورنٹ ہے‘ اسی پر کھانا کھاتے ہیں۔ پھر خود ہی کہنے لگا کہ ایک تو پاکستانی کھانا ہوگا‘ دوسرا یہ کہ کھانا حلال ہو گا اور تیسری بات یہ کہ بالکل سامنے ہے چلنا بھی نہیں پڑے گا۔ میں نے بجائے بحث کرنے کے ان کو ریسٹورنٹ میں داخل ہونے کا اشارہ کیا اور ان کے پیچھے پیچھے ریسٹورنٹ میں داخل ہو گیا۔ دس ضرب چودہ کا ایک کمرہ تھا جس کے اندر دو فریزر پڑے تھے اور ایک عدد کاؤنٹر بھی تھا۔ میز پر میز اور کرسی پر کرسی چڑھی ہوئی تھی۔ ریسٹورنٹ میں کافی رونق تھی۔ اب میں منتظر تھا کہ کھانا آئے اور پتہ چلے کہ کھانا کیسا ہے۔ کھانا ایک نعمت ہے اور میں اس کے بارے میں منفی رائے دینے سے حتی الامکان حد تک پرہیز کرتا ہوں کہ مجبوری میں جب بھوک لگی ہو اور کھانا نہ مل رہا ہو یا کھانا کھانے کی استطاعت نہ ہو تب پتہ چلتا ہے کہ کھانا کتنی بڑی نعمت ہے خواہ اس کا ذائقہ کچھ بھی ہو۔ لیکن بہر حال اب یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ جیب میں پیسے ہوں تھوڑی دور دائیں بائیں کچھ اور ریسٹورنٹ بھی موجود ہوں اور بدذائقہ کھانا کھایا جائے۔ منیر نیازی مرحوم کی ایک نظم ہے ”پہلی بات ہی آخری تھی‘‘۔ سو بنی گالہ ریسٹورنٹ میں یہ پہلا کھانا ہی ہمارا آخری کھانا ثابت ہوا۔ اس کھانے کے بعد دونوں بھائیوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے اور کہا اے امیر سفر! آئندہ کھانے کیلئے آپ ہمیں جدھر لے جائیں گے‘ ہم وہیں کھانا کھائیں گے۔
لزبن پرتگال کا دارالحکومت ہے تاہم مقامی لوگ اسے لزبن نہیں بلکہ لزبوا کہتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے فرانسیسی پیرس کو پاغی کہتے ہیں۔ سفر خواہ جہاز کا ہی کیوں نہ ہو‘ بہرحال تھکاوٹ تو ہوتی ہے۔ پہلے گھر سے ایئرپورٹ تک کا سفر کرنا‘ پھر ایئرپورٹ پر انٹرنیشنل فلائٹ کی وجہ سے دو ڈھائی گھنٹے پہلے پہنچ کر خوار ہونا‘ پھر جہاز کا سفر‘ پھر جہاز سے اتر کر امیگریشن کی قطاروں میں کھڑے ہونا‘ پاسپورٹ پر ٹھپے لگوانا‘ ٹیکسی تلاش کرنا۔ سو کھانا کھانے کے بعد ہم خلافِ معمول پیدل چلنے کے بجائے تقریباً سو ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر ٹرام سٹیشن پہنچے اور شہر کے مرکز میں پہنچ گئے۔ وہاں کوئی میلہ لگا ہوا تھا یا کوئی کارنیول تھا‘ شہر کے وسط میں ایک کھلے میدان میں جو شہر کے مرکزی چوک کے بالکل ساتھ تھا‘ ایک میلے کا سا سماں تھا۔ وہاں سو ڈیڑھ سو سے بھلا کیا کم سٹال ہوں گے جو وہاں لگے ہوئے تھے۔ پرتگال کے روایتی کھانوں کے علاوہ دنیا بھر کے کھانوں کے سٹال تھے مگر ہم اس سے محروم تھے کہ ان میں حلال کھانے کا کوئی سٹال نہیں تھا۔ مختلف اقسام کے خشک پھل‘ ایسے ایسے پھل خشک کیے ہوئے تھے جن کا پہلے کبھی تصور نہیں تھا۔ وہاں پنیر کی دو تین دکانیں تھیں جن میں طرح طرح اور رنگ رنگ کا پنیر تھا۔ دستکاریوں اور سووینرز کے سٹالز کا تو کوئی حساب ہی نہیں تھا۔ ایک سٹال سے چند سووینرز خرید لیے۔ آگے گئے تو ان سے نسبتاً بہتر اور سستے سووینرز پڑے تھے۔ پہلی خرید پر پچھتانے کے بعد خسارہ کم کرنے کیلئے دو تین مزید خرید لیے اور تھوڑی دیر بعد پھر ملال ہوا۔ اس قسم کا ملال پرتگال کے پورے سفر میں بار بار طاری ہوا مگر میں نے بھی سووینرز خریدنے سے توبہ نہ کی۔
فرانس کے بعد مغرب میں بحرِ اوقیانوس تک یورپ کا جو حصہ نکلا ہوا ہے وہ سپین اور پرتگال پر مشتمل ہے‘ جغرافیہ کی زبان میں اسے جزیرہ نما آئیبریا یا آئیبیریئن پیننسولا کہتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں مسلمانوں نے فتوحات کا آغاز کیا۔ تب یہ سارا علاقہ مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا‘ تاہم ان تمام ریاستوں میں پرتگال نام کا کوئی ملک یا ریاست موجود نہیں تھی۔ پرتگال کی تشکیل بعد میں ہوئی‘ تب یہ علاقہ سپین ہی سمجھا جاتا تھا۔ سپین میں مسلمانوں کی آمد اور فتوحات کی باقاعدہ شروعات 711 عیسوی میں طارق بن زیاد کے جبرالٹر کے راستے سپین میں داخلے سے ہوئی۔ اس وقت جبرالٹر پر راڈرک کے حکومت تھی۔ موجودہ پرتگال کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو مسلمان اس علاقے میں تھوڑے عرصے بعد دسویں عیسوی میں فتوحات کا پرچم لہراتے ہوئے داخل ہوئے۔
طارق بن زیاد کے حملے کے 1310سال بعد پاکستان کے بہت سے سیاستدان‘ بیوروکریٹ‘ سرمایہ دار اور دولت مند پرتگال کی شہریت کے حصول کیلئے اس پر ایسے چڑھ دوڑے ہیں کہ اس علاقے پر آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان لشکر کے برق رفتار حملوں کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔
Load/Hide Comments

