گوادر میں پاک چین مشترکہ منصوبے کا سنگ بنیاد، گدھوں کا گوشت اور کھالیں چین برآمد ہوں گی

گوادر (این این آئی)پاکستان اور چین کے سرمایہ کاروں کے مشترکہ منصوبے شہزاد اینڈ شاؤ فارم کا سنگِ بنیاد گوادر فری زون میں رکھ دیا گیا اس منصوبے کو دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ، مقامی پیداوار، پراسیسنگ اور برآمدات میں اضافے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔گوادر پرو کے مطابق شہزاد اینڈ شاؤ پرائیویٹ فارم کمپنی لمیٹڈ پاکستان کے گوادر فری زون میں قائم کیا جانے والا ایک سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔ یہ تقریباً 16500 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے جبکہ اس کا تعمیر شدہ رقبہ لگ بھگ 5,000 مربع میٹر ہوگا۔ منصوبے پر تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ چینی یوآن کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے مقامی افراد کے لیے تقریباً 120 ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ نے کہا کہ فری زون میں صنعتی ترقی سے گوادر بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے بلوچستان کے زراعت، ماہی گیری اور لائیوسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو بھی اجاگر کیا۔رپورٹ کے مطابق شہزاد اینڈ شاؤ فارم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاؤ یون فی نے کہا کہ مشترکہ سرمایہ کاری سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار اور فنی تربیت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق زراعت اور خوراک سے متعلق شعبوں میں سرمایہ کاری مقامی وسائل کو عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے میں مدد دے سکتی ہے جبکہ فری زون میں صنعتی اور پیداواری سرگرمیوں کو وسعت دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔گوادر پرو کے مطابق واضح رہے کہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے مشترکہ کاروباری ادارے شہزاد اینڈ شاؤ پرائیویٹ نے گوادر نارتھ فری زون میں چار ایکڑ اراضی باضابطہ طور پر حاصل کی تھی، جہاں گدھوں کے ذبح خانے اور پراسیسنگ فیکٹری قائم کی جائے گی۔ اس منصوبے کا مقصد گدھوں کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنا ہے۔گوادر پرو کے مطابق فیکٹری کی تعمیر شروع کرنے کیلئے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق 10 اگست کو ابتدائی مٹی کی جانچ بھی کی گئی تھی۔ حکومتی ہدایات کے تحت کمپنی کو سالانہ ڈیڑھ لاکھ گدھے ذبح کرنے کا کوٹہ بھی حاصل ہو چکا ہے۔گوادر پورٹ اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے گوادر پرو کو بتایا کہ کمپنی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، محکمہ حیوانات کے قرنطینہ اور عوامی جمہوریہ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمزسے تمام ضروری لائسنس اور عدم اعتراض کے سرٹیفکیٹس (این او سیز) حاصل کر لیے ہیں۔عہدیدار کے مطابق سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں مقامی گدھا پالنے والے کسانوں کے اشتراک سے گدھوں کے فارمز قائم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان میں گدھوں کے گوشت اور کھالوں کی پراسیسنگ کے لیے چین کی قیادت میں جدید ذبح خانے کی تعمیر 5 کروڑ امریکی ڈالر کی لاگت سے مکمل کی گئی تھی۔چین میں گدھوں کے گوشت اور کھالوں کی نمایاں طلب ہے۔بالخصوص گدھے کی کھال ای جیاؤ کی تیاری میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ ای جیاو روایتی چینی طب میں استعمال ہونے والی ایک مصنوعات ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں گدھوں کی تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے، جہاں ان کی مجموعی تعداد تقریباً 58 لاکھ ہے۔ گوادر پورٹ اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گوادر نارتھ فری زون میں گدھوں کے ذبح خانے کی تعمیر اور کمپنیوں کی کاروباری سرگرمیوں کے آغاز سے دیگر سرمایہ کار اداروں کی دلچسپی بھی بڑھی ہے اور متعدد کمپنیوں نے اراضی کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ان کمپنیوں میں ایم ایل جی فارمز، سانگ یانگ گلوبل لمیٹڈ اور فوشان برادرز اینڈ سسٹرز ٹریڈنگ کمپنی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں