کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافے کو معیشت کیلئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں، نجی شعبے کی محنت اور حکومتی سہولتکاری کو یکجا کرکے پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مقام مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ ستمبر 2026 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 43 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے سے 18 فیصد اور اگست کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ ملکی تاریخ کی دوسری بلند ترین ماہانہ سطح ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، جولائی تا ستمبر، میں آئی ٹی برآمدات ایک ارب 25 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فری لانسرز کی کارکردگی بھی حوصلہ افزا ہے۔ ستمبر میں انکی برآمدی آمدن 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہے۔ یہ پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو مناسب تربیت اور سہولتیں ملیں تو وہ عالمی منڈی میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرسکتے ہیں۔ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کیلئے تیز رفتار اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، بجلی کی مسلسل فراہمی، مستحکم ٹیکس پالیسی اور بیرونِ ملک سے ادائیگیوں کی آسان وصولی پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔ آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو کاروبار بڑھانے کیلئے آسان بینکاری، مالی وسائل اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جائے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جامعات اور نجی شعبے کے اشتراک سے ایسے عملی تربیتی مراکز قائم کیے جائیں جہاں نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل کاروبار کی تربیت کے ساتھ انٹرن شپ اور کام کے مواقع بھی ملیں۔ خواتین اور دوردراز علاقوں کے نوجوانوں کیلئے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور تربیتی وظائف کی فراہمی اس کوشش کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ پاکستانی نوجوانوں کے ہنر کو برآمدی آمدن میں تبدیل کرنا معاشی خودانحصاری کی طرف اہم قدم ہے۔ آئی ٹی برآمدات کی بڑھتی ہوئی آمدن کے ثمرات زیادہ روزگار، بہتر آمدن اور چھوٹے شہروں تک پھیلتے ہوئے مواقع کی صورت میں عوام تک پہنچائے جائیں۔

