مذاکرات کے نام پر بلوچستان گرینڈ الائنس رہنماؤں کی گرفتاری دھوکہ دہی کی انتہا ہے: پروفیسر کلیم اللہ

کوئٹہ(این این آئی) فپواسا بلوچستان چیپٹر و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری فریدخان اچکزئی، نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، جوائنٹ سیکرٹری میڈم زہرا ملغانی، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی، فنانس سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ باز محمد کاکڑ اور ایگزیکٹیو ممبران ارباب رضا کاسی، میڈم فرحانہ عمر مگسی، ڈاکٹر محب اللہ کاکڑ، ڈاکٹر گل محمد بلوچ اور پروفیسر مسعود مندوخیل نے اپنے ایک مشترکہ مذمتی بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت اور وعدہ خلاف وزراء بلوچستان گرینڈالائنس کے قائدین سے 17 جون کو کئے گئے وعدوں جس میں صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس، صوبے کی یونیورسٹیوں کو تنخواہوں و پینشنز کی مد میں 11 ارب روپے دینے اور یونیورسٹیوں کے منظور شدہ الاؤنسز کے غیر قانونی نوٹیفکیشن کو واپس لینے اور مہنگائی کی شرح سے تنخواہوں میں اضافے کی بجائے بلوچستان یونیورسٹی کے ایمپللائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی، آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نزیر لہڑی جنرل سیکرٹری نعمت اللہ کاکڑ جواہنٹ سیکریٹری شاہ بابر کو غیرقانونی طور پر گرفتار کرنا دراصل ملازمین دشمنی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اس سے پہلے بلوچستان گرینڈالائنس کے مرکزی آرگنائزر پروفیسر قدوس کاکڑ، جنرل سیکرٹری اصغر بنگلزئی کو مذاکرات پر بلا کر دھوکہ دہی سے درجنوں ساتھیوں سمیت گرفتار کرکے وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی کی انتہا کردی۔ بیان میں واضح کیا کہ ایک طرف بلوچستان یونیورسٹی اساتذہ کرام اور آفیسران اب تک مئی کے مہینے کی تنخواہ اور پینشنز سے محروم ہیں بلکہ پچھلے سال کی سالانہ بجٹ میں جکومت کی جانب اضافہ شدہ تنخواہ سمیت پینشنز سے بھی محروم رکھے گئیہیں لیکن اس سخت مالی بحران کے باوجود صوبائی حکومت نے اپنے سالانہ بجٹ میں سے ایک بار پھر قصدا یونیورسٹیوں کی بجٹ میں وعدے کے مطابق 11 ارب روپے نا رکھ کر یونیورسٹیوں کو مذید مالی بحران میں دھکیلا جس کے خلاف یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام اور ملازمین نے دیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ بلوچستان گرینڈالائنس کی پلیٹ فارم سے بھرپور آواز اٹھائی اور اٹھاتی رہیگی۔۔ بیان میں تمام غیرقانونی طور پر گرفتار قائدین و ملازمین کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا کہ ان تمام کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور صوبائی حکومت وعدے کے مطابق بجٹ اور تنخواہوں اور پنشنز میں اضافہ کریں۔ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اساتذہ اور ملازمین کے جائز حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں