گوادر (این این آئی)بلوچستان ساحل عالمی تجارت کا نیا مرکز بننے کو تیار،گوادر میں پاکستان ایران تاریخی بیٹھک، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق،گوادر۔چابہار اقتصادی شراکت داری، خطے میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات روشن،پاکستان ایران بندرگاہی اتحاد، گوادر میں تاریخی معاہدے طے،تفصیلات کے مطابق گوادر میں گوادر پورٹ اتھارٹی اور چابہار فری زون آرگنائزیشن کے درمیان ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان بندرگاہی، تجارتی اور اقتصادی تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ اور گوادر فری زون کمپنی لمیٹڈ کے نمائندوں کے علاوہ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جہیند ہوت کی شرکت۔ اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے مکران ساحلی پٹی کی مشترکہ جغرافیائی اہمیت اور خطے میں موجود وسیع اقتصادی مواقع کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی بڑے فیصلے کیے۔ فریقین نے گوادر میں جھینگا فارمنگ اور ایکوا کلچر کے جدید منصوبے کے قیام، بلوچستان اور ایران کی کھجوروں کو مشترکہ برانڈ“مکران پریمیم”کے تحت عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے، اور گوادر پورٹ کے ذریعے بونڈڈ ٹرانزٹ کوریڈور کے قیام جیسے اہم اقدامات پر اتفاق کیا، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک تک رسائی بھی مزید آسان ہو جائے گی۔مزید برآں، دونوں جانب سے ایک جوائنٹ ورکنگ کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جو باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے گی، جبکہ بندرگاہی امور، فری زون مینجمنٹ، سرمایہ کاری کے فروغ، کولڈ چین لاجسٹکس اور کسٹمز کے نظام میں بہتری کے لیے اسٹاف اور ٹیکنیکل ایکسچینج پروگرام شروع کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔اجلاس کے اختتام پر پاکستان اور ایران نے تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اس اہم مشترکہ اعلامیے پر نور الحق بلوچ اور محمد سعید عربی نے دستخط کیے۔یہ تاریخی پیش رفت نہ صرف گوادر اور چابہار کے درمیان روابط کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں اقتصادی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور علاقائی تجارت کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہوگی۔

