ایک بااصول صحافی کی داستانِ خدمت

تحریر: جاوید اقبال گجر(تحصیل پاپولیشن ویلفیئر آفیسر 03017391102)

صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی روح سمجھی جاتی ہے۔ یہ وہ مقدس پیشہ ہے جو نہ صرف عوامی مسائل کو اربابِ اختیار تک پہنچاتا ہے بلکہ سچائی، انصاف اور شعور کی شمع بھی روشن رکھتا ہے۔ پاکستان کی صحافتی دنیا میں بعض شخصیات ایسی بھی ہیں جو شہرت، نمود و نمائش اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر خاموشی سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں۔ ایسی ہی باوقار اور بااصول شخصیات میں ایک نمایاں نام محمد مظہر رشید چودھری کا ہے، جو ایک شریف النفس، کہنہ مشق صحافی، صاحبِ قلم کالم نگار اور منفرد انداز کے ریڈیو ایف ایم اینکرپرسن کے طور پر اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔محمد مظہر رشید چودھری کا تعلق ضلع اوکاڑہ سے ہے اور وہ تین دہائیوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ روزنامہ آفتاب کے پلیٹ فارم سے انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل، سماجی ناانصافی، انسانی حقوق، قومی یکجہتی اور فلاحِ عامہ جیسے موضوعات کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔ ان کے قلم میں نہ صرف سچائی کی طاقت موجود ہے بلکہ ایک دردمند دل کی دھڑکن بھی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ صحافت کو ذاتی مفادات کے بجائے قومی خدمت کا ذریعہ سمجھا اور معاشرے کے محروم اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن کر اپنا کردار ادا کیا۔ان کی صحافت کا سب سے نمایاں وصف مثبت سوچ، اعتدال اور حقیقت پسندی ہے۔ وہ سنسنی خیزی اور بے بنیاد خبروں سے گریز کرتے ہوئے معاشرے میں امید، شعور اور اصلاح کا پیغام عام کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں قومی دنوں، تحریکِ پاکستان، قائداعظم محمد علی جناح کے افکار، سماجی مسائل اور عوامی فلاح کے موضوعات پر ہمیشہ قارئین کی توجہ حاصل کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے فلاحی اداروں، سماجی تنظیموں اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار افراد کی خدمات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا، تاکہ معاشرے میں نیکی، محبت اور انسان دوستی کے رجحانات فروغ پا سکیں۔محمد مظہر رشید چودھری نے ریڈیو ایف ایم اینکرپرسن کے طور پر بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ایف ایم ریڈیو کے ابتدائی دور میں ان کی شائستہ گفتگو، دلنشیں انداز اور پیشہ ورانہ مہارت نے سامعین کے دل موہ لیے۔ ان کی آواز میں سنجیدگی، خلوص اور اعتماد کی ایسی کیفیت محسوس ہوتی تھی جو سامعین کو اپنی جانب متوجہ رکھتی۔ انہوں نے ریڈیو کے ذریعے نہ صرف معیاری تفریح فراہم کی بلکہ معلوماتی، تعلیمی اور اصلاحی پروگراموں کے ذریعے عوامی شعور بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات آج کی نوجوان براڈکاسٹر نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی سادگی، شرافت، دیانت داری اور اصول پسندی ہے۔ وہ ہمیشہ حق گوئی اور غیر جانبداری کے ساتھ صحافتی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ موجودہ دور میں جب صحافت مختلف مفادات اور دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے، ایسے باکردار صحافی یقیناً معاشرے کے لیے امید کی کرن ہیں۔ محمد مظہر رشید چودھری نے ہمیشہ صحافت کو عبادت کا درجہ دیا اور نوجوان نسل کو یہی پیغام دیا کہ صحافت محض خبر رسانی نہیں بلکہ ایک قومی امانت اور بڑی ذمہ داری ہے۔محمد مظہر رشید چودھری بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے کو بھی قومی ترقی کی راہ میں ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہیں۔ وہ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے پروگراموں، خاندانی منصوبہ بندی کی مہمات اور عوامی آگاہی سرگرمیوں کو اپنی تحریروں کے ذریعے بھرپور انداز میں اجاگر کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ محدود وسائل کے حامل ملک میں آبادی کا بے ہنگم اضافہ غربت، بے روزگاری، تعلیم اور صحت جیسے مسائل میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ ان کا قلم اس حساس قومی مسئلے پر معاشرتی شعور اجاگر کرنے میں قابلِ قدر کردار ادا کر رہا ہے۔آج جب سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے روایتی صحافت کو نت نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے، محمد مظہر رشید چودھری جیسے تجربہ کار، باوقار اور بااصول صحافیوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وہ اپنے کردار اور عملی زندگی سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد عوامی خدمت، سچائی کی ترویج اور قومی شعور کی بیداری ہے۔اللہ تعالیٰ محمد مظہر رشید چودھری کو صحتِ کاملہ، خوشیوں بھری زندگی اور درازی عمر عطا فرمائے تاکہ وہ اسی جذبے، دیانت اور خلوص کے ساتھ اپنے قلم اور آواز کے ذریعے قوم کی خدمت کرتے رہیں۔ بلاشبہ ایسے شریف النفس، مخلص اور باکردار افراد کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں ٭

اپنا تبصرہ بھیجیں