مولانا فضل الرحمن کیلئے دعا

خورشید ندیم
مولانا فضل الرحمن کی جرأتِ رندانہ حیران کن ہے۔ سچ پوچھئے تو پریشان کن بھی۔
مولانا محمد ادریس شہید کے تعزیتی جلسے سے ان کا خطاب سن کر یہ احساس ہوا کہ یہ ایک ایسے حق گو مذہبی راہنما کا نعرۂ مستانہ تھا جو جذبات‘ دور اندیشی اور جرأت کا مرقع ہے۔ دل کا درد اُن کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ انہیں اندازہ تھا کہ علمائے حق کی صف میں ایک ایساخلا واقع ہو گیا ہے جو تادیر باقی رہے گا۔ دور اندیشی الفاظ میں ڈھل کر متنبہ کر رہی تھی کہ ایک ایسی دینی تعبیر مسلم معاشروں میں سرایت کر چکی جو ہمارے اجتماعی وجود اور شعور کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ تعبیر مسلم علما اور عوام کی تکفیر کرتی اور ان کو مباح الدم قرار دیتی ہے۔ جرأت اس لہجے سے نمایاں تھی جو باطل کو للکارنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
اقتدار کی سیاست کے ساتھ‘ مولانا نے مذہب کے سماجی کردار کو بھی اپنا ہدف بنایا ہے۔ اس وقت ان کا یہی کردار میرے پیشِ نظر ہے۔ انہیں ایک طرف اپنے مسلک کا دفاع کرنا ہے اور دوسری طرف مذہبی تنوع اور مذہب کو درپیش چیلنجوں کا بھی لحاظ رکھنا ہے۔ ان پر مستزاد عالمی سیاست کی الجھنیں ہیں۔ ہمار ی مذہبی قیادت میں شاید ہی کوئی ہو جو اُن کی طرح اس سیاست کو سمجھتا اور تاریخ کا شعور رکھتا ہو۔ ان پہلوئوں کا ادراک رکھتے ہوئے معاشرے میں مذہب کی نمائندگی کرنا آسان نہیں۔ ہم گواہ ہیں کہ مولانا نے پاکستان کو بارہا انتشار سے بچایا‘ بالخصوص جب فرقہ واریت کا عفریت ہمارے وجود سے لپٹ گیا یا تشدد اور انتہا پسندی نے معاشرے کو فساد سے بھر دیا۔ یہ واقعات زیادہ پرانے نہیں۔ میں نے اور میرے بعد آنے والی نسل نے ان کو بچشمِ سر دیکھا ہے۔ یہ واقعات ہم پر بیتے ہیں۔
1980ء کی دہائی میں بطورِ خاص اور اس کے بعد بھی‘ شیعہ سنی تنازع ہمارے سماجی امن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ کوئی مسجد محفوظ رہی نہ کوئی امام بارگاہ۔ جذبات تھے کہ قابو میں نہ آتے تھے۔ علما قتل ہو رہے تھے اور عوام بھی۔ اس فضا میں جب ایک دِیا سلائی دکھانے سے کراچی سے خیبر تک آگ بھڑک سکتی تھی‘ جھنگ میں جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ پانچ علما کو شہید کر دیا گیا۔ یہ معمولی واقعہ نہیں تھا‘ بالخصوص جمعیت کے لیے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس وقت جمعیت کے کارکنوں کے جذبات کیا ہوں گے۔ اعلان ہوا کہ نمازِ جمعہ کے بعد راجہ بازار راولپنڈی میں احتجاجی جلسہ ہو گا‘ جس سے مولانا فضل الرحمن خطاب کریں گے۔ میں نے جمعہ کی نماز ‘دارالعلوم تعلیم القرآن‘ میں پڑھی‘ جو شہر میں دیوبندی مسلک کا سب سے معتبر ادارہ اور راجہ بازار میں واقع ہے۔ یہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کی یادگار ہے۔ مسجد میں اندازہ ہو گیا کہ اس احتجاج کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے۔ کارکن توقع کر رہے تھے کہ قائد ایک خاص مسلک کے خلاف اعلانِ جہاد کر سکتے ہیں۔
مولانا جلسے میں تشریف لائے اور ان کی تقریر نے جذبات کی آگ پر پانی ڈال دیا۔ وہ اجتماع جو اس واقعے کو جھنگ کی خاص فضا اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہا تھا‘ اسے مولانا نے بتایا کہ اس واقعے کا تعلق شیعہ سنی اختلاف سے نہیں ہے۔ حاضرین کے ایک بڑے طبقے میں مایوسی پھیل گئی لیکن مولانا کی تقریر نے اس فساد کے سامنے بند باندھ دیا جو ملک بھر میں پھیل سکتا تھا۔ انہوں نے غم وغصے کا رخ بدل دیا اور اپنے ہم مسلکوں کو پیغام دیا کہ یہ شیعوں اور سنیوں کو لڑانے کی کوئی سازش ہو سکتی ہے۔ میں ان دنوں ایک نوجوان طالب علم تھا اور یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ آج جب بال سفید ہو رہے ہیں‘ میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ مولانا کی فراست نے پاکستان کو فرقہ واریت کی کوکھ سے جنم لینے والے فساد سے کیسے محفوظ رکھا جس کے مسلح علمبردار ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔
لاہور کا واقعہ بھی سب کو یاد ہو گا جب داتا دربار میں بم دھماکہ ہوا اور بہت سی قیمتی جانیں اس کی نذر ہو گئیں۔کچھ شرپسندوں نے اسے دیوبندی بریلوی جھگڑے میں بدلنا چاہا۔ مولانا اس وقت بھی سامنے آئے اور یہ اعلان کیا کہ سید علی ہجویریؒ ہمارے بزرگوں میں سے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی دیوبندی ان کے مزار کو ہدف بنائے۔ پھر حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ وہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کے لیے ایرانی سفارتخانے گئے۔ فرقہ وارانہ اور مسلکی تعصبات کے اس غلبے میں‘ یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ مولانا کو معلوم تھا کہ انہیں اپنوں کی تنقید کا بھی ہدف بننا پڑے گا۔ اس کے باوصف انہوں نے وہی کیا جو مسلمانوں اور پاکستان کے مفاد میں تھا۔
سب سے بڑا معرکہ انہوں نے جہاد کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں کے خلاف لڑا۔ یہ تحریکیں مسلکِ دیوبند کو اپنا یرغمال بنا لیتیں اگر مولانا آگے بڑھ کر ان کا راستہ نہ روکتے۔ برصغیر میں علمائے دیوبند نے انگریزی استعمار کے خلاف جہاد کیا ہے‘ یہ تلوار کے ساتھ تھا اور قلم سے بھی۔ انگریزوں کے اقتدار اور ان کے ساتھ تعاون کے خلاف فتوے بھی دیے گئے۔ کچھ گروہوں نے اس روایت کو مسلم حکمرانوں اور عوام کے خلاف بھی استعمال کرنا چاہا جب افغانستان میں سوویت یونین نے حملہ کیا یا طالبان نے مسلح اقدام کیا۔ اس دوران میں کچھ لوگوں نے غیر ملکی استعمار اور مسلم اقتدار کے ساتھ‘ پاکستان اور افغانستان کے حالات کے فرق کو بھی نظر انداز کیا اور پاکستان میں مسلح جنگ کو جائز کہا۔ یہ چونکہ اپنا تعلق دیوبند کی روایت سے جوڑتے تھے‘ اس لیے اس کے سب سے زیادہ اثرات بھی اس مسلک کے وابستگان پر مرتب ہوئے۔ مولانا کو معاملے کی سنگینی کاا ندازہ ہو گیا اور انہوں نے اس کے خلاف میدان میں نکلنے کا فیصلہ کیا۔
یہ آسان کام نہیں تھا۔ اس میں جان کا خطرہ تھا۔ مولانا نے یہ خطرہ مول لیا۔ ان پر کم از کم تین قاتلانہ حملے ہوئے۔ اگر ان کی گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو جان کا بچنا مشکل تھا۔ ان کے بیٹے پر بھی حملہ ہوا۔ وہ جس خطے میں رہتے ہیں وہاں اس انتہا پسندانہ تعبیرِ دین کو ماننے والوں کا غلبہ ہے‘ مولانا جن کو للکار رہے ہیں۔ مولانا محمد ادریس کی شہادت پر مولانا کی تقریر جس جرأت مندی سے عبارت ہے‘ کوئی مصلحت پسند دنیادار اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے ان کی بہادری کی تحسین کے ساتھ‘ مجھے اس خطاب سے پریشانی بھی ہوئی۔ میں مولانا محمد ادریس کے حوالے سے یہ بات پہلے بھی لکھ چکا کہ ایسے علما کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے جو انتہا پسندانہ مذہبی تعبیرات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا ہے جو انسانی جان کی حرمت سے واقف نہیں اور یہ نہیں جانتے کہ قتل کے مجرم کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیسی سخت وعید سنائی ہے۔
ہم جب کسی فرد کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں تو ہمیں اس کی مجموعی شخصیت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ حکم کُل پر لگایا جاتا ہے‘ جزو پر نہیں۔ عصمت کا باب نبوت کے ساتھ بند ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمن سمیت سب شخصیات کا معاملہ یہی ہے۔ مولانا نے سماج میں فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جو کردار فی الجملہ ادا کیا ہے‘ اس پر وہ تحسین کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا سمیت ہر اس شخص کی حفاظت فرمائے جو معاشرے میں امن کے لیے کام کرتا اور انسانوں کو فساد سے بچانا چاہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں