ڈاکٹر رشید احمد خاں
اگرچہ تیل اٹھارہویں صدی عیسوی کی آخری دہائیوں میں دریافت ہو چکا تھا مگر اس کی تجارتی مقاصد کیلئے پیداوار سب سے پہلے 1908ء میں ایران میں شروع ہوئی۔ بعد ازاں جب انٹرنل کمبسشن انجن کی ایجاد کے بعد بھاپ کی جگہ ڈیزل سے بحری جہاز اور ریل گاڑیاں چلنے لگیں تو اس کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔ یہ یورپی نوآبادیاتی دور کے عروج کا زمانہ تھا اور ”گن بوٹ ڈپلومیسی‘‘ کے تحت اس استحصالی نظام کی بقا کا تمام تر انحصار زمینی اور بحری مواصلاتی نیٹ ورک کی مضبوطی پر تھا۔ اگرچہ یورپ کے دیگر ممالک مثلاً فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی‘ ہالینڈ‘ بلجیم‘ سپین اور پرتگال بھی نوآبادیاتی دوڑ میں شریک تھے مگر ان سب میں سب سے بڑی نوآبادیاتی سلطنت برطانیہ تھی اور اس کا سب سے قیمتی حصہ ہندوستان تھا‘ جس پر برطانیہ نے نپولین دور میں فرانسیسیوں کو شکست دے کر اپنے قبضے کی راہ ہموار کی تھی۔
فرانسیسیوں کو شکست دینے کے بعد انگریزوں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ نہر سویز کے مشرق میں واقع اپنی دیگر تمام نوآبادیات کو سمندر کے راستے بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ رکھنے کیلئے بحری اڈوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ اس میں مغرب میں باب المندب کو کنٹرول کرنے کیلئے عدن‘ مشرق میں آبنائے ملاکا‘ جنوب مغرب میں جنوبی افریقہ کی بندرگاہ سائمنز ٹاؤن اور بحر ہند کے عین وسط میں کولمبو (سری لنکا) شامل تھے۔ اس پورے نیٹ ورک کی بنیاد برطانوی بحریہ تھی جو اس زمانے میں دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ سمجھی جاتی تھی۔ اسی بحری قوت کی مدد سے برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں نہر سویز سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک علاقائی دفاع کا ایسا نظام قائم کر رکھا تھا کہ عالمی جنگوں کے درمیانی عرصے (1914ء تا 1945ء) میں بحر ہند کو ”برٹش لیک‘‘ کہا جاتا تھا۔ تاہم اس دفاعی نظام کا بنیادی فوکس بحر ہند میں بیرونی طاقتوں کی دراندازی کو روکنا تھا۔ اس مقصد کیلئے برطانیہ نے افریقہ‘ عرب اور مشرقی ایشیا میں مضبوط فوجی اڈے قائم کیے ہوئے تھے۔ انہی اڈوں کی بدولت برطانیہ نہ صرف اپنے یورپی حریفوں کو بحر ہند میں نوآبادیاتی سلطنتیں قائم کرنے سے روکنے میں کامیاب رہا بلکہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جب جاپانی افواج نے جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے ساتھ سنگاپور کے اڈے پر بھی زمینی حملہ کر کے آبنائے ملاکا پر قبضہ جما لیا تو ان کے بحری جنگی جہاز‘ جو خلیج بنگال میں داخل ہو چکے تھے‘ کولمبو میں موجود برطانوی بحری اڈے کی مدد سے مغرب کی طرف بڑھنے سے روک دیے گئے۔ سر ونسٹن چرچل نے اپنی کتاب ”دی سیکنڈ ورلڈ وار‘‘ کی پانچویں جلد میں اس صورتحال کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
خلیج فارس اور آبنائے ہرمز نہ صرف اس علاقائی دفاعی حکمت عملی کا حصہ تھے بلکہ تیل کی دریافت اور اس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ان کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ایران کے بعد عراق‘ کویت‘ سعودی عرب اور بحرین میں بھی تیل کی پیداوار شروع ہو گئی اور یہ تمام ممالک خلیج فارس کے خطے میں واقع تھے۔ یورپ‘ جاپان اور امریکہ جن ممالک سے تیل درآمد کرتے تھے ان کا تعلق بھی زیادہ تر اسی خطے سے تھا۔ شمال مغربی افریقہ مثلاً لیبیا اور الجزائر سے دنیا کو تیل کی برآمدات 1970ء کی دہائی میں شروع ہوئیں۔ اس سے قبل یورپ اور جاپان کی معیشت کا پہیہ چلانے والا 80 فیصد تک تیل خلیج فارس کے ممالک سے درآمد کیا جاتا تھا۔
خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ سے جاپان اور یورپی صنعتی ممالک کے اتنی بڑی مقدار میں تیل درآمد کرنے کی تین بنیادی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ سپلائی میں رکاوٹ کا خطرہ موجود رہتا تھا کیونکہ تیل کی دریافت‘ صفائی اور مارکیٹ تک رسائی کا پورا عمل مغربی تیل کمپنیوں کے ہاتھ میں تھا۔ اگرچہ بعض مقامی حکومتوں کے پاس ان کمپنیوں کے کچھ حصص موجود تھے مگر مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے تیل پر مغربی کمپنیوں کا کنٹرول تھا جنہیں خصوصاً برطانیہ اور امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے تیل کے مقابلے میں مشرقِ وسطیٰ کا تیل نسبتاً سستا تھا۔ بہت سے لوگوں کیلئے یہ بات حیران کن ہوگی کہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام یعنی 1945ء میں ان ممالک سے حاصل ہونے والے خام تیل کی قیمت صرف ایک ڈالر فی بیرل تھی اور کئی دہائیوں تک اس میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی‘ یہاں تک کہ 1960ء میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک (OPEC) قائم ہوئی۔ اوپیک نے نہ صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کا اپنی قدرتی دولت پر حقِ ملکیت تسلیم کرایا بلکہ قیمتوں میں بھی مرحلہ وار اضافہ کیا۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل میں سلفر کی مقدار کم ہوتی ہے اسی لیے عالمی منڈی میں اس کی مانگ زیادہ رہی۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد جب امریکی مارشل پلان کے تحت تباہ حال یورپ کی معاشی بحالی کا آغاز ہوا تو اس پورے عمل کو جاری رکھنے کیلئے مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیج فارس کے تیل پر انحصار کیا گیا۔ جوں جوں یورپ میں صنعتی ترقی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں تیزی آتی گئی‘ درآمدی تیل کی مقدار بھی بڑھتی گئی۔ یہ تیل آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس سے بحر ہند میں داخل ہوتا اور تیل بردار جہازوں کے ذریعے وہاں سے مغرب میں نہر سویز‘ مشرق میں آبنائے ملاکا اور جنوب میں جزیرہ نمائے راس امید (Cape of Good Hope) کے راستے یورپ‘ جاپان اور امریکہ تک پہنچایا جاتا تھا۔ 1970ء کی دہائی میں جاپان اور یورپ اپنی تیل کی ضروریات کا 70 سے 80 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج فارس سے درآمد کرتے تھے۔ اگرچہ اب یورپ کا انحصار نسبتاً کم ہو چکا ہے مگر جاپان اور چین آج بھی اپنی ضروریات کا بالترتیب 80 سے 95 فیصد تیل خلیج فارس سے حاصل کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اس بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیشِ نظر اس کے دفاعی انتظامات میں بھی اضافہ کرنا پڑا۔ 1970ء کی دہائی تک خلیج فارس‘ بحیرہ احمر اور بحر ہند میں یورپی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری برطانیہ کے پاس تھی مگر دوسری عالمی جنگ کے دوران شدید نقصانات اور جنوبی ایشیا و افریقہ میں اپنی نوآبادیاتی مقبوضات سے دستبرداری کے بعد برطانیہ اتنی مالی سکت نہیں رکھتا تھا کہ وہ ان خطوں کی دفاعی ذمہ داریاں مزید نبھا سکے۔ چنانچہ 1969ء میں وزیر اعظم ہیرالڈ ولسن نے خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ برطانوی حکومت 1970ء تک نہر سویز کے مشرق میں واقع اپنے تمام فوجی اڈے خالی کر دے گی۔
اس طرح 1970ء میں برطانیہ نے مشرق میں سنگاپور اور مغرب میں عدن کے اڈے خالی کرنے کے علاوہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو بھی آزاد کر دیا۔ طاقت کے اس خلا کو پُر کرنے اور خصوصاً سوویت یونین کی بحر ہند میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے امریکہ نے خلیج فارس کے دفاع کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس نے بعض سابق برطانوی اڈوں کو اپنی تحویل میں لے کر انہیں مزید وسیع کیا اور ساتھ ہی نئے فوجی اڈے بھی قائم کیے۔ اس کے علاوہ خلیج فارس میں پانچواں‘ بحیرہ روم میں چھٹا اور بحر ہند میں ساتواں بحری بیڑا تعینات کیا گیا۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں بحری بیڑوں کے علاوہ امریکہ کے 13 فضائی اور بحری اڈے موجود ہیں جہاں 40 سے 50 ہزار امریکی اہلکار تعینات ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ برطانیہ کی طرح امریکہ نے بھی یہ دفاعی انفراسٹرکچر خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے تحفظ کیلئے کسی بیرونی حملہ آور قوت یعنی سوویت یونین کو ذہن میں رکھ کر تعمیر کیا تھا مگر آج یہی انفراسٹرکچر خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے ایران کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
Load/Hide Comments

