گوادر(رپورٹر) چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ کی کراچی میں اہم ملاقاتیں جاری، گوادر پورٹ سے متعلق سرمایہ کاروں سے مشاورت، ٹرانس شپمنٹ اور فیڈر سروسز پر گفتگو، کوسکو سمیت شپنگ لائنز کے کردار اور وسط ایشیائی تجارتی روٹس براستہ ایران پر تبادلہ خیال۔ تفصیلات کے مطابق چیرمین گوادر بندرگاہ نورالحق بلوچ پی آئی ایف ایف اے (PIFFA) کے ہیڈ آفس آمد جہاں کاروباری شخصیات اور لاجسٹک انڈسٹری کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پی آئی ایف ایف اے کے کابینہ ممبران شیراز قریشی (ایس وی سی)، بلال الرحمٰن (آئی پی سی)، بابر بدات (بانی چیرمین پیفا)، شکیل احمد (سابق چیرمین) اور اظہارالحق قمر (نمایندہ چیرمین)، سابق صدر گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فیصل دشتی، یاسر دشتی گوادر پورٹ کے افسران کیپٹن (ر) گل محمد، شبیر احمد بلوچ سمیت کاروباری شخصیات، لاجسٹک انڈسٹری کے نمائندوں اور شپنگ شعبے سے وابستہ افراد شریک رہے۔ ملاقات و اجلاس میں گوادر پورٹ کو فعال بنانے، ٹرانزٹ ٹریڈ کے فروغ اور وسط ایشیائی ریاستوں تک براستہ ایران رسائی کے مواقع پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں شرکاء کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر گوادر پورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت کو عملی اقدامات کے ذریعے اس منصوبے کو کامیاب بنانا ہوگا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ محض دعوؤں سے بات نہیں بنے گی بلکہ گوادر پورٹ کی انٹرنیشنل حیثیت کو مربوط ٹرانسپورٹ نظام سے متصل کرنا ہوگا تاکہ علاقائی تجارت کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے، اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دنیا کی 90 سے 95 فیصد کمرشل تجارت اب کنٹینرز کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے گوادر پورٹ کو بھی جدید کنٹینر ٹرمینل اور فیڈر سروسز کے ذریعے فعال بنایا جانا ضروری ہے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ میں مختلف اقسام کے کارگو ہینڈل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ سابق صدر گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فیصل دشتی نے اجلاس کو بتایا کہ گوادر کے بارے میں سیکیورٹی خدشات کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ شرکاء کے سیکیورٹی خدشات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ روزانہ سینکڑوں ایل پی جی ٹینکرز اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ٹریفک پُرسکون انداز میں گوادر سے اندرونِ ملک جا رہی ہے، جبکہ گزشتہ برس گوادر بارڈر سے حکومتِ پاکستان کو تقریباً ساڑھے 54 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا، جو اس خطے میں جاری تجارتی سرگرمیوں کا واضح ثبوت ہے۔ ان کاروباری سرگرمیوں میں مقامی بلوچ، پختون اور کراچی کے سرمایہ کار شامل ہیں، جو تاجروں کے گوادر پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ گوادر پورٹ کو کامیاب بنانے کے لیے ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ کلیدی کردار رکھتے ہیں۔ شرکاء کے مطابق اگر گوادر سے نیشنل اور لوکل کارگو کی ترسیل بغیر رکاوٹ جاری رہی تو بڑی شپنگ لائنز اور فریٹ فارورڈرز ایجنسیاں خود بخود یہاں کا رخ کریں گی۔ اجلاس میں چینی شپنگ کمپنی “کوسکو” سمیت عالمی شپنگ لائنز کو گوادر لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ بندرگاہ کی عالمی سطح پر کنیکٹیویٹی بہتر بنائی جا سکے۔ اجلاس میں مغربی روٹ اور وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے نئے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایران کے راستے وسط ایشیائی ممالک تک رسائی کھولنا ایک بڑی پیش رفت ہے اور ایف بی آر کو جلد از جلد پالیسی گائیڈ لائنز وضع کرنی ہوں گی۔ اس سے افغانستان پر انحصار کم ہوگا اور گوادر پورٹ خطے کی ٹرانزٹ ٹریڈ کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔ بتایا گیا کہ چند شپمنٹس اس نئے روٹ کے ذریعے کامیابی سے روانہ بھی کی جا چکی ہیں۔ شرکاء نے اجلاس کے توسط سے حکومت کو متعدد تجاویز پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فیڈر سروسز کو سبسڈی دی جائے، چارجز میں رعایت فراہم کی جائے اور گوادر کو باضابطہ طور پر ٹرانس شپمنٹ پورٹ قرار دیا جائے تاکہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری اور آپریشنز شروع کریں۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ گوادر میں 30 روزہ فری اسٹوریج سہولت ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے ایک بڑا فائدہ ہے، جسے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اجلاس میں شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گوادر پورٹ کی کامیابی دراصل پاکستان کی معاشی ترقی سے جڑی ہوئی ہے اور اس مقصد کے لیے نجی شعبہ، لاجسٹک انڈسٹری اور کاروباری برادری حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔
*جمیل قاسم*
میڈیا کوآرڈینیٹر
گوادر پورٹ اتھارٹی

