گوادر پورٹ پر درآمدی، برآمدی کارگو کیلئے 30 روزہ مفت اسٹوریج سہولت کا اعلان

گوادر(این این آئی)گوادر پورٹ اتھارٹی نے گوادر پورٹ پر آنے والے درآمدی اور برآمدی کارگو کے لیے 30 دن تک مفت اسٹوریج کی سہولت فراہم کرنا شروع کر دی ہے۔ سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کے لیے گوادر پورٹ اتھارٹی کے زیر انتظام کارگو شیڈز، اسٹوریج کنٹینر یارڈز اور ریپئر شیڈز میں بھی مفت ذخیرہ کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔یہ بات اتھارٹی کے چیئرمین نور الحق بلوچ نے آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن کے اراکین سے ملاقات کے دوران بتائی جہاں انہوں نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، گوادر پورٹ کی اسٹریٹجک اہمیت، اور ٹرانزٹ و ٹرانس شپمنٹ تجارت سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ یہ تمام سہولیات ایک جدید چھ رویہ ایکسپریس وے کے ذریعے بندرگاہ اور فری زون کو کوسٹل ہائی وے سے منسلک کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدہ صورتحال کے باعث کسی ممکنہ جنگ یا پابندیوں کی صورت میں گوادر ایک محفوظ اور متبادل تجارتی راستے کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر سے ایران کے مشرقی علاقوں اور وسطی ایشیا ء تک رسائی پاکستان کے دیگر شہروں کے مقابلے میں کئی سو کلومیٹر کم ہے جس سے لاجسٹک اخراجات اور ٹرانزٹ وقت میں نمایاں کمی آتی ہے۔اجلاس کے دوران چیئرمین نور الحق بلوچ نے کہا کہ گوادر پورٹ مستقبل میں علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا مرکز بننے جا رہا ہے اور خطے میں اس کی اہمیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کا اپروچ چینل ملک کی تمام بندرگاہوں میں سب سے مختصر ہے جس کی لمبائی تقریبا ساڑھے چار کلومیٹر ہے۔چیئرمین نور الحق بلوچ نے مزید کہا کہ گوادر سے زاہدان اور وہاں سے وسطی ایشیا ء تک ایک تجارتی راستہ موجود ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں چین سے آنے والے کنٹینرز کا پہلا قافلہ اسی راستے کے ذریعے کامیابی سے گوادر پورٹ پہنچایا گیا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گوادر میں چین اور وسطی ایشیا کو خطے سے جوڑنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر فری زون میں صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو ٹیکس چھوٹ اور دیگر خصوصی مراعات حاصل ہیں جبکہ مشینری اور آلات ڈیوٹی فری درآمد کیے جا سکتے ہیں۔جی پی اے چیئرمین نے شپنگ کمپنیوں اور تاجروں پر زور دیا کہ وہ گوادر پورٹ کا رخ کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران سے ایک تجارتی وفد جلد گوادر کا دورہ کرے گا۔کم ترین ٹیرف، جدید سہولیات اور اسٹریٹجک محل وقوع کی بدولت گوادر پورٹ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم تجارتی راہداری بننے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں