عیدکے موقع پر صوبے میں جاری لاک ڈاون کو فوری ختم کیا جائے،انجمن تاجران بلوچستان

کوئٹہ(این این آئی) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عید کے موقع پر صوبے میں جاری لاک ڈاون کو فوری ختم کیا جائے عیدالاضحی کے بعد انتظامیہ کے ساتھ دوبارہ بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے لائحہ عمل تیار کیاجائے اگر ہمارے مطالبے پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو 14مئی کے بعد آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر کے فیصلے کے مطابق ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور صوبے بھرمیں شٹرڈاؤن ہڑتال کرنے پر مجبور ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر حضرت علی اچکزئی، عمران ترین، سعد اللہ اچکزئی، جعفر خان کاکڑ، یاسین مینگل، حاجی ہاشم کاکڑ، عبدالخالق آغا، ظفر کاکڑ اللہ داد اچکزئی، محمد جان درویش، سردار ولی، کلیم کمالزئی، حسن آغا، شاہ رضا، اصغر علی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔عبدالرحیم کاکڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی توانائی بچت کے فیصلے کے پیش نظر کفایت شعاری پروگرام کے تحت ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی سمارٹ لاک ڈاؤن اور کاروباری اوقات میں پابندی کا اعلان کیا گیا تھا اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان، چیمبر آف کامرس کے نمائندوں سے ملاقات کرکے تعاون کی درخواست کی اور ایک ماہ کیلئے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد نظر ثانی کرکے اسے ختم کرنے کا کہا تھا لیکن 6 مئی کو ایک ماہ پورا ہونے کے باوجود حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے تا حال تاجر برادری کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا گیا عید الضحی کی آمد آمد ہے اور تاجروں نے عید کے حوالے سے کروڑوں روپے سامان کی خریداری پر لگا رکھا ہے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروباری مراکز بند رہتے ہیں جس کی وجہ سے چھوٹے دکاندار، ریڑھی بان، کپڑا فروش، جوتے فروش، موبائل مارکیٹس، ہوٹل مالکان اور ہزاروں کی تعداد میں مزدور طبقہ سارا سال عید کے سیزن کا انتظار کرتے ہیں کیونکہ ان کے کاروبار کا سیزن ہوتا ہے لیکن اس وقت لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہے اور لاکھوں خاندان شدید مالی مشکلات اور فاقہ کشی کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر توانائی نے ایل این جی کی درآمد کے بعد بجلی کی پیداوار میں اضافے کا عندیہ دیاہے اور پہلے تیل سے بجلی پیدا کی جارہی ہے اب گیس سے پیداوار کو 1 ہزار میگاواٹ سے بڑھا کر 6 ہزار میگاواٹ کردیا گیا جس سے ملک میں لوڈ شیڈنگ میں کمی واقعہ ہوئی ہے اس لئے حکومت تاجروں کو دیوار کے ساتھ نہ لگائے اور ہمارے جائز مطالبے پر عملدرآمد کرتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاؤن کو ختم کرے تاکہ تاجر برادری اپنی تجارتی سرگرمیاں عید کے دنوں میں جاری رکھ سکیں اگر 14 مئی تک لاک ڈاؤن ختم نہ کیا گیا تو آل پاکستان مرکزی تاجران تنظیم کی کال پر عمل پیرا ہوکر احتجاجی مظاہرے اور بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے کیونکہ پہلے ہی پیٹرولیم اور یوٹیلٹی بلوں سمیت ٹیکسز میں بے تحاشا اضافے کے بعد مہنگائی کا طوفان برپا ہے اشیاء خوردونوش ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے نے تاجر اور عوام کو شدید متاثر کر رکھا ہے غریب مزدور تنخواہ دار طبقہ کی زندگی اجیرن بن چکی ہے حکومت ہوش کے ناخن لے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو واپس لے انہوں نے گزشتہ روز لکپاس کسٹم میں آتشزدگی سے تاجروں کے اربوں روپے کے نقصان پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی صاف اور شفاف تحقیقات کرکے تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور اس شعبے سے وابستہ لوگوں کے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرے مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کوچز ایسوسی ایشن، ٹرک اونرز ایسوسی ایشن، مزدا ایسوسی ایشن کے ہر احتجاج میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی تاکہ انہیں انصاف مل سکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبے پر 14 مئی تک سمارٹ لاک ڈاؤن کو ختم نہ کیا تو ہم احتجاج کریں گے اور لاک ڈاؤن کے فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے اور اب ہم انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے رابطے کرکے لاک ڈاؤن ختم کرائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں