کوئٹہ (این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے تمام کارکنوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ پشتونخوا وطن کے تمام سیاسی مسائل پر توجہ دیں اور ان مسائل کے حل کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا کر قومی دوستی کی سیاست کر کے اپنے وطن کو غلامی سے نجات دلائیں۔ پشتون طالب علموں کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ بہترین سیاسی کارکن اور سیاسی قیادت قومی تحریکوں کو فراہم کرتی رہی ہے اس وطن کو بچانا ہے یہ صرف پشتونخوا میپ کی ذمہ داری نہیں اور نہ ہی صرف پشتونخوامیپ بچا سکتی ہے اس کے لیے پشتونخواوطن کے تمام عوام کو سیاست میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا اور تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنا سیاسی جمہوری کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے پشتونخوا ا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن جنوبی پشتونخوا کے زونل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ملکی معاشی سیاسی عدالتی آئینی بحران اپنی جگہ لیکن اس سے پہلے بھی پشتونخوا وطن کے نوجوان بدترین بے علمی، پسماندگی، لاچارگی، غربت، بے روزگاری کا شکار اور دیار غیر میں سب سے سستی مزدوری کے لیے حاضر رہے ہیں ابھی حال ہی میں سینکڑوں میل زمین کے ا ندر کوئلے کی کان بیٹھ گئی شمالی پشتو نخوا کے 38 کے قریب دلیر،ہنر مند خوبصورت نوجوان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹے۔ وہاں کی جنت جیسی وادیوں سے نکل کر یہاں سینکڑوں بلکہ ہزاروں میل دور زمین کے اندر کوئلہ نکالنا ظاہر کرتا ہے کہ قدرتی وسائل سے بھرپور یہاں کے کانوں میں کام،محنت مزدوری کرنا، پھر ان کی لاشیں اپنی ماؤں کے پاس جاتی ہیں روزگار کے مواقع ہمارے نوجوانوں سے چھینے گئے ہیں۔اس ملک میں یہاں کے حکمرانوں نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ پشتون مزدور ہوگا یہ انتہائی خطرناک عمل ہے اس طریقے سے اور بے انصافی سے یہ ملک آگے نہیں جا سکتا۔ میں تمام پشتون طالب علموں اور تمام نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ انہوں نے اتحاد و اتفاق کر کے ایک ہونا ہوگا۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ہم پر دہشت گردی بھی مسلط کر دی گئی ہے اور ہمیں دہشتگرد بھی کہا جا رہا ہے آج ہمارے وطن ہرنائی،شاہرگ، زیارت، شیرانی، لورلائی، موسیٰ خیل، کوئٹہ،زیارت،قلعہ عبداللہ اور دیگر اضلاع میں کیا حالات ہیں غیر لوگوں کو لا کر بسایا گیا ہے انہیں مختلف ذمہ داریاں دی گئی ہیں اس طریقے سے گاؤں کے لوگ پہاڑی علاقوں کے لوگ مجبور ہو کر شہروں کا رخ کریں گے اور یہ لوگ زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں لگے ہوئے ہیں ہم پر ایسی حالات سازش کے تحت مسلط کی جا رہی ہے کہ ہم خود یہ مطالبہ کریں کہ ہمارے وطن میں امریکہ، روس یا جو بھی آتا ہے ا ٓجائے لیکن ہمیں اپنے گھر کے ساتھ مزدوری دے کر دو وقت کی روٹی دیں۔ ان سازشوں سے پشتونخوا وطن کی عوام کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ قبیلوں کے درمیان موجود نفرتوں اورآپس کی رنجشوں کو ختم کرنا ہوگا۔سوشل میڈیا کو ہم نے مثبت طریقے سے استعمال کرنا ہوگا ہم نے کسی کی گالیوں کا جواب گالی سے نہیں دینا ہوگا۔سوشل میڈیا پر اکثر بیمار لوگ لگے رہتے ہیں اور اپنے قومی ہیروز اور سیاسی مبارزین کے خلاف گالیاں بکتے ہیں ان کا علاج ہم نے خود ہی کرنا ہے جس نے گالی دی تو سمجھ جاؤ کہ اس بندے کا ذہن بیلنس نہیں ہے۔ پشتون انتہائی سنجیدہ اور ذمہ دار قوم ہے لیکن نئے نوجوانوں کی تربیت،ذہنی نشونما ان کی عادات اطوار اخلاقیات اور پشتونوں کے کوڈ آف کنڈکٹ بتانے ہوں گے۔ یہ پارٹی کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے وطن کے نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کریں کیونکہ ہماری پارٹی وطن کی مدد پارٹی ہے ہم نے تمام پارٹیوں کے سیاسی کارکنوں کی تربیت پشتونوں کے طرز پر کرنی ہوگی۔ نواب ایاز جوگیزئی نے کہا کہ ہم حکومت اور تمام بڑی کمپنیوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ آئیں سروے کریں یہاں کے عوام زمین کے مالکوں کے ساتھ معاہدے کریں مرکز اور صوبے کے اپنے شیئرز جو قانونی بنتے ہیں وہ اپنے لیں اور باقی زمین کے مالکوں اور کمپنیوں کے درمیان میں بات ہو اس میں دہشت گردوں،بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور دیگر ناموں کی کیا ضرورت ہے کہ ٓاپ لوگوں کے نام پر سرعام دہشتگردی مسلط کریں اور کہیں کہ یہاں سے نکلو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ نواب ایا ز خان جوگیزئی نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں میں دیگر دنیا کے نوجوانوں کے مقابلے میں صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں لیکن چونکہ انہیں وہ مواقع میسر نہیں کہ وہ اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا کرمعاشرے کی قیمتی انسان بنیں۔ ہمارے نوجوانوں کو ایک سازش کے تحت نشہ آور چیزوں کا عادی بنایا جا رہا ہے جس کے لیے پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔ بہترین کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر آپ تمام طالب علموں کو دعا دیتا ہوں لیکن مبارکباد تب دوں گا جب یہ سب اپنی ذمہ داری پوری کریں گے اور اپنی ذمہ داریوں میں کامیاب ہوں گے۔

