بلوچستان،موسم سرد ہوتے ہی گیس پریشرکم، پائپ لائنوں میں گیس کی بجائے ہوا آنے لگی

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر اور صوبے کے سرد علاقوں میں موسم سرد ہوتے ہی گیس پریشردم توڑ چکا ہے اور پائپ لائنوں میں گیس کی بجائے ہوا آنے لگی ہے جس نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، ایک طرف کوئٹہ شہر میں گیس نہیں ہے تو دوسری طرف عوام کو بھاری بل بھیجے جارہے ہیں جو قابل مذمت ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی بلوچستان کے صارفین کے ساتھ اپنا رویہ درست کرے بصورت دیگر اگر عوام سڑکوں پر نکل آئے تو حالات کی ذمہ داری سوئی سدرن گیس انتظامیہ پر عائد ہوگی۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کا بلوچستان کے صارفین کے ساتھ رویہ سوتیلی ماں جیسا ہے ایک طرف گیس نہیں آرہی ہے تو دوسری طرف 26یونٹ سے لیکر100یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو 18سے 50ہزار تک کے بل بھیجے گئے ہیں جو صارفین کے ساتھ زیادتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سرد علاقوں میں موسم سرما شروع ہونے کے ساتھ ہی گیس کا پریشر ختم ہوگیا ہے اور پائپ لائنوں میں گیس کی بجائے ہوا آنے لگی ہے جس سے صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن جرگہ کوئٹہ شہر اور صوبے کے دیگر سرد علاقوں میں صارفین کو بھاری بل بھیجنے اور گیس پریشر میں کمی کی مذمت کرتا ہے اور سوئی سدرن گیس کمپنی سے مطالبہ کرتا ہے کہ صارفین کوبھیجے گئے بھاری بل درست کئے جائیں اور گیس پریشر کو فوری بحال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے گیس صارفین کا صبر جواب دے چکا ہے اب بھی وقت ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی انتظامیہ اپنا رویہ صارفین کے ساتھ درست کرے اگرخدانخواستہ عوام سڑکوں پر نکل آئے تو انہیں سنبھالا کسی کے بس میں نہیں ہوگااور حالات کی تمام ترذمہ داری سوئی سدرن گیس انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں