بلوچستان میں انسدادِ پولیو کی سات روزہ مہم (آج) سے شروع ہوگی، تمام انتظامات مکمل

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان کے 31 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر 22 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کیلئے سات روزہ مہم (آج)پیر2 نومبر سے شروع ہوگی۔ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق کے مطابق مہم کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ صوبے بھر میں بچوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے 8 ہزار 888 ویکسینیشن ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔مہم کے دوران 658 یونین کونسلز میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مقررہ ویکسینیشن مراکز اور آمدورفت کے اہم مقامات پر بھی ٹیمیں تعینات ہوں گی تاکہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے،مہم میں 583 فکسڈ سائٹ ٹیمیں اور 397 ٹرانزٹ پوائنٹ ٹیمیں بھی شامل ہوں گی، جو سفر کرنے والے خاندانوں کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی،مہم کوئٹہ کے مشرقی اور مغربی اضلاع کے علاوہ چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ، خضدار، حب، چاغی، خاران، نوشکی، ژوب، لورالائی، دکی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل، شیرانی، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، کچھی، جھل مگسی، نصیرآباد، جعفرآباد، صحبت پور، اوستہ محمد، برشور،قلات، سیوی، ڈیرہ بگٹی نارتھ اور ساوتھ کے مختلف علاقوں کے علاقوں میں چلائی جائے گی۔انعام الحق نے کہا کہ خطے میں پولیو وائرس کی مسلسل موجودگی بدستور تشویش کا باعث ہے، ان کے مطابق پڑوسی ملک افغانستان میں پولیو کے تقریباً 50 کیسز جبکہ پاکستان میں سات کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے باعث بچوں کو وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے مسلسل اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں نومبر 2024 کے بعد پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہواتاہم انہوں نے خبردار کیا کہ صوبے میں نئے کیسز سامنے نہ آنے کے باوجود خطے کے دیگر حصوں میں وائرس کی موجودگی کے باعث صوبے میں وائرس کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوای او سی کوآرڈینیٹر نے کہا کہ بچوں کو بار بار پولیو ویکسین پلانا ان کی قوتِ مدافعت برقرار رکھنے اور وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔انہوں نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی کہ وہ مہم کے دوران ویکسینیشن ٹیموں سے تعاون کریں اور پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں، خواہ انہیں گزشتہ مہمات کے دوران بھی قطرے کیوں نہ پلائے گئے ہوں۔انعام الحق نے اساتذہ، علمائے کرام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر بھی زور دیا کہ وہ عوام میں آگاہی پیدا کریں اور خاندانوں کو انسدادِ پولیو مہم میں بھرپور شرکت کی ترغیب دیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں