لورالائی (این این آئی) پشتونخوا نیپ لورالائی کے ضلعی سیکرٹری مصطفی کمال کاکڑ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کانسٹیبلری لورالائی کے 488 مقامی اہلکاروں کو دوسرے ضلعے میں تبادلہ ناقابل قبول ہے، ان کی منسوخی روک دیا جائے، لورالائی میں ان اہلکاروں کی بھی شدید ضرورت ہے اور اپنی ڈیوٹی بخوبی سرانجام دے رہے ہیں، کرپشن، رشوت اور سفارش کی کلچر کا خاتمہ اسی میں ممکن ہیں کہ بی سی کے مقامی اہلکار اپنے ضلعے میں ڈیوٹی سرانجام دیں، شدید مہنگائی کے دور میں اپنے گھر اور بچوں کے ساتھ رہیں اور اپنے ضلعے میں ڈیوٹی دینا بھی آسان رہے گا، ظاہر سی بات ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لورالائی کے بی سی اہلکاروں کی تبادلہ کھاتے، رشوت، کرپشن اور سفارش کیلئے راہ ہموار کر دیں گیلورالائی سے 488 بی سی اہلکاروں کی تبادلہ نہ صرف بدنیتی پر مبنی ہے بلکہ انتہائی قابل مذمت ہے اور اس کی شدید مذمت اور مخالفت کرتے ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان، سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس، ڈی آئی جی پولیس لورالائی رینج اور کمانڈنٹ بی سی لورالائی رینج پوری طور پر بی سی کے 488 اہلکاروں کی ناجائز تبادلہ منسوخ کریں، بصورت دیگر اس کے خلاف شدید احتجاج کی کال دیں گے

