لسبیلہ(رپورٹ بیوروچیف حفیظ دانش) لسبیلہ کے ساحلی علاقوں میں محکمہ فشریز کی جانب سے عائد کردہ ماہی گیری کی پابندیاں خود محکمہ کے افسران ہی نظر انداز کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، لسبیلہ کے سمندر میں “گنجہ وار نیٹ” کے استعمال کا سلسلہ بڑی دیدہ دلیری سے جاری ہے، جو ماہی گیری کے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔گجہ وار نیٹ ایک ایسا ممنوعہ جال ہے جو مچھلیوں کی تمام اقسام اور سائز کو بلا تفریق پکڑ لیتا ہے، جس سے سمندری حیات خصوصاً چھوٹی مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر جانداروں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس عمل سے نہ صرف موجودہ ماہی گیری متاثر ہو رہی ہے بلکہ آنے والے برسوں میں مچھلیوں کی آبادی میں شدید کمی کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہےمقامی ماہی گیروں اور ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ سب محکمہ فشریز کے بعض افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ممکن ہو رہا ہے، جو ماحولیاتی توازن کو بگاڑنے کے ساتھ ساتھ قانونی و اخلاقی اقدار کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہےگجہ وار نیٹ کے استعمال کو مکمل طور پر روکا جائےساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کو ماحول دوست طریقۂ کار سے متعلق آگاہی اور تربیت فراہم کی جائے۔اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو بلوچستان کا قیمتی سمندری خزانہ شدید خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔لسبیلہ کے عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لسبیلہ کے ساحل سمندر میں گجہ وارنیٹ پر فوری طور پابندی عائد کی جائے تاکہ سمندری حیات محفوظ ہوسکیں

