کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، چترال، اپر دیر، سوات اور کْمراٹ ویلی میں گلیشیئر پھٹنے (GLOF) کے خدشے پر ہائی الرٹ تو جاری کر دیا ہے لیکن سوات سانحے میں 18 افراد کے بپھرے ہوئے دریائے سوات میں ڈوب کر جاں بحق ہونے کے واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلاب سے نمٹنے کیلئے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی کوئی تیاری نہیں تھی رواں برس زیادہ گرمی پڑنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر گلیشئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جسکی وجہ سے شمالی علاقہ جات,خیبر پختون خواہ اور پنجاب میں شدید سیلاب آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے. این ڈی ایم ا ے نے اگلے 24 تا 48 گھنٹوں کے دوران ملک بھر کے مختلف علاقوں مون سون بارشوں اورممکنہ سیلاب کے حوالے سے بھی الرٹ جاری کردیا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے علاقوں بدسوات، ہنارچیتر سات ہندور، دارکوٹ اور اشکومن میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلابی صورتحال کا خطرہ بڑھ گیاآزاد کشمیر کے نیلم ویلی، مظفرآباد، راولا کوٹ، باغ اور کوٹلی میں شدید بارشوں اور شہری سیلاب کا خدشہ۔ خیبرپختونخوا کے اضلاع پشاور، مردان، سوات، دیر، کوہستان، بنوں، کرک اور وزیرستان میں تیز بارشوں اورآندھی طوفان متوقع اسلام آباد، لاہور،راولپنڈی، گجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا، قصور اور منڈی بہاوالدین میں شدید بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا امکان ہے ان تمام خدشات اور امکانات کے باوجود این ڈی ایم اے, پی ڈی ایم اے اور ملک بھر کی ضلعی انتظامیہ کی کہیں تیاری نظر نہیں آتی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے جیسے ادارے بنائے تو گئے ہیں لیکن انہیں صحیح معنوں میں فعال نہیں کیا گیا ہر سال شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے بے انتہا تباہی ہوتی ہے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کو فعال بنانے کی بجائے ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت ہمیشہ فوج طلب کر لیتی ہے دریائے سوات میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے افراد کو ریسکیو کرنا صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری تھی سانحہ سوات پر متعلقہ حکومت اور اداروں سے جواب طلب کر کے مجرمانہ غفلت برتنے پر ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی کو ذمہ داریوں سے غفلت برتنے کی جرات نہ ہو حکومت این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کو تربیت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ مشینری فراہم کرے۔

