کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹرمولانا عبدالواسع کہا ہے کہ بلو چستان اسمبلی میں تما م سیا سی جماعتوں کو اندھیرے میں رکھ کر مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کروایا گیاجس کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے ہمارا مطالبہ ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو فوی الفور ختم کیا جائے،این ایف سی اور 18ویں ترمیم کا سب سے زیا دہ فائدہ بلو چستان اورخیبر پختونخواء کو پہنچا ہے جمعیت علماء اسلام کسی صورت این ایف سی اور 18ویں ترمیم کو ختم نہیں ہونے دیگی،رکن صوبائی اسمبلی میر زابد علی ریکی کی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پارٹی رکنیت معطل کردی گئی ہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو اپنی رہائشگا ہ پر اپو زیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، رکن صوبائی اسمبلی فضل قادر مندوخیل سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔سینیٹرمولانا عبدالواسع کہا کہ جمعیت علماء اسلام سال 2018 اور 2024 کے انتخابات کو کو مسترد کرچکی ہے اورپی ڈی ایم کی جماعتیں حکومت میں جبکہ سربراہ پی ڈی ایم اپوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں واضح موقف اختیار کر تے ہوئے قوم کی طرف سے پاک فوج کو یقین دھانی کروائی کہ 24کروڑ عوام فوج کے شانہ بشانہ ہیں اسکے اگلے دن پاک فوج نے 4گھنٹوں کے اندر اندر بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب کہ بھارت نے پھر جنگ بندی کی باتیں شروع کر دیں۔انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام عوام کی نمائندہ جماعت ہے،جمعیت علماء اسلام کے علاوہ کسی سیاسی جماعت نے پاک فوج کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہم نے اپنے تمام تحفظات کو سائڈ پر رکھ کر پاک فوج یقین دلایا کہ عوام کا تعاون انہیں حاصل ہے جمعیت علماء اسلام پر دہشتگردی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں مودی نے پہلا حملہ دینی مدرسے پر کیاجس سے ثابت ہوا کہ دشمن کون ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان میں جمعیت علماء اسلام کا اہم کر دار رہا ہے ہم حکومت اور اپوزیشن کا حصہ رہے اور عوام کی امیدوں پر اترے ہیں بلوچستان میں 2002 سے 2013 تک جمعیت علماء اسلام حکومت میں تھی اس دوران بجٹ کا حجم 85ارب روپے تھا 30سے35فیصدحصہ ڈویلپمنٹ پر خرچ کیا جا تا تھا 2002میں بلو چستان میں صرف جامعہ بلو چستان تھی پھر 2002سے لیکر 2013تک تقریباً8جامعات اور14سے15کیڈٹ کالجز تعمیرکروائے گئے اسکے بعد صوبے میں کوئی میگا پروجیکٹ شروع نہیں کیا گیا جمعیت علماء اسلام نے فارمولے کی بنیاد پر این ایف سی حاصل کیاجس کے بعد بجٹ 600ارب تک پہنچ گیا۔انہوں نے کہاکہ بلو چستان اسمبلی سے جمعیت علماء اسلام کی بلو چستان اسمبلی سے 12سیٹیں چوری کی گئیں لیکن ہم نے پھر عوام کے حقوق پر سمجھو تہ نہیں کیا، بلو چستان اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو چالاکی کے زریعے پاس کروایا گیاتمام جماعتوں کو اندھیرے میں رکھ کر مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کروایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان میں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے سوراب میں 800سے 900افراد پر مشتمل قاقلہ اپنی کارروائی کر کے چلے جا تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کا ماکزی شوریٰ کا اجلاس ہوا تمام حالات کو مد نظر رکھ کر ہمارا مطالبہ ہے کہ ایف این سی کروایا جائے،مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو ختم کیا جائے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو ختم کرنے کے لئے عدالت،اسمبلی اور عوامی عدالت میں جائیں گے بلو چستان کی سیا سی جماعتوں نے دھوکہ کھایا ہے جمعیت علماء اسکام کے اراکین اسمبلی کو شوکاز نوٹسز جا ری کئے گئے اور ہمیں جواب یہی ملا ہے کہ ہمیں دیکھا یا کچھ اور پاس کچھ اور کروایا گیا۔ سینیٹرمولانا عبدالواسع کہا کہ واشک کی پسماند گی ہم نے دیکھی ہے رکن صوبائی اسمبلی میر زابد ریکی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو ہار پہنا کر پارٹی مؤقف کے برعکس سیاسی رویہ اپنایاجمعیت علمائے اسلام نظریاتی جماعت ہے جس میں پارٹی ڈسپلن اور مشاورت کی بنیاد پر فیصلے کئے جاتے ہیں کسی بھی رکن کو ذاتی مفاد یا غیر جماعتی رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی رکن بلوچستان اسمبلی میر زابد علی ریکی کی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر رکنیت معطل کردی گئی ہے زابد ریکی کی اسمبلی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ مرکزی قیادت کے پاس ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام این ایف سی اور 18ویں ترمیم کو کسی صورت ختم نہیں ہونے دیگی،بلو چستان اسمبلی میں اپو زیشن لیڈر نے صوبے کے مسائل کو بھر پور انداز میں اجاگر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلو چستان میر سر فراز بگٹی کو موقع دے چکے ہیں ہمیں معلوم ہے کہ انکے پاس کوئی اختیار ات نہیں ہیں۔

