اوتھل(این این آئی) حکومت بلوچستان کی پالیسیوں کی کوتاہی اور غیر ترقیاتی کلسٹر بجٹ کی برآمدگی سے قبل ہی عائد کی گئی اچانک پابندی کے باعث 2025 کا کروڑوں روپے مالیت کا کلسٹر بجٹ لیپس ہوگیا.تفصیلات کے مطابق حکومت بلوچستان کی پالیسیوں کی کوتاہی اور غیر ترقیاتی کلسٹر بجٹ کی برآمدگی سے قبل ہی عائد کی گئی اچانک پابندی کے باعث 2025 کا کروڑوں روپے مالیت کا کلسٹر بجٹ لیپس ہوگیا جس کے نتیجے میں سرکاری اسکولوں میں تدریسی مواد کا شدید بحران پیدا ہوچکا ہے۔ذرائع کے مطابق، صوبے کے متعدد اضلاع خصوصاً لسبیلہ کے 24 کلسٹر اسکولز اور ضلع حب کے درجنوں تعلیمی ادارے متاثر ہوئے ہیں جہاں تعلیمی سال کے دوران درسی مواد، اسٹیشنری، تدریسی آلات اور دیگر ضروریات کی فراہمی ممکن نہیں ہو پائی۔ بجٹ کی عدم دستیابی کے سبب اسکولوں کا تعلیمی عمل براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔تعلیمی حلقوں کے مطابق جون 2025 کی مقررہ تاریخ سے قبل ہی بجٹ برآمدگی پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے کلسٹر بجٹ لیپس ہونے کے خدشات حقیقت میں بدل گئے۔ حیران کن طور پر اس کے ساتھ ہی حکومت نے حالیہ مہینوں میں SBK اور کنٹریکٹ بنیادوں پر سیکڑوں اساتذہ کی بھرتی ضرور کی، مگر بجٹ کی عدم دستیابی نے ان اساتذہ کے لیے کام کے ماحول کو شدید متاثر کر دیا ہے۔تعلیمی ماہرین اور عوامی نمائندوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف صوبائی حکومت تعلیم کی بہتری کے بلند و بانگ دعوے کر رہی ہے، اور دوسری جانب کروڑوں کا بجٹ محض غیر سنجیدہ پالیسیوں کے سبب ضائع کر دیا گیا ہے۔عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، سیکریٹری تعلیم اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غفلت کی فوری انکوائری کی جائے، لیپس شدہ کلسٹر بجٹ کی متبادل فراہمی یقینی بنائی جائے، اور آئندہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے مربوط اور شفاف میکانزم تشکیل دیا جائے تاکہ بلوچستان کے اسکولوں میں تدریسی عمل کا تسلسل قائم رہ سکے۔تعلیمی و عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کلسٹر بجٹ لیپس ہونے کی تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے. اور یہ بھی واضح کیا جائے کہ اساتذہ کی محنت اور طلبہ کے حق میں آنے والا فنڈ کس بنیاد پر ضائع کیا گیا. بصورت دیگر، یہ عمل صوبے میں تعلیم کی ساکھ اور حکومتی دعوؤں پر سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گا۔؟

