کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری سابق اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ ننھے مصور خان کاکڑ کا بہیمانہ قتل: حکومتی نااہلی اور صوبے کی مخدوش امن و امان کی صورتحال کا منہ بولتا ثبوت ہے جمعیت علماء اسلام ننھے مصور خان کاکڑ کے بہیمانہ اور دلخراش قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اور اسے صوبائی حکومت کی مکمل نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت قرار دیتی ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ “فارم 47” کی پیداوار موجودہ صوبائی حکومت اپنے بنیادی فرائض سے کس قدر غافل ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان، خصوصاً کوئٹہ، میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ اغوا برائے تاوان کے واقعات صوبے میں ایک معمول بن چکے ہیں، جس نے شہریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ آئے روز پیش آنے والے چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم نے عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بدقسمتی سے، موجودہ حکمران ان سنگین مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اپنی اندرونی سیاسی کشمکش اور ذاتی مفادات میں الجھے ہوئے ہیں۔ “فارم 47” کی پیداوار حکومت صوبے کے عوام کو امن و سکون فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، جس کا نتیجہ مصور خان کاکڑ جیسے معصوم بچوں کے لرزہ خیز قتل کی صورت میں سامنے آ رہا ہیانہوں نے کہا کہ حکومتی سرپرستی میں منشیات فروشی، لینڈ مافیا اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ صوبائی دارالحکومت کی سڑکوں پر سرعام اسلحے کی نمائش اور سنگین جرائم کا ارتکاب اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حکومتی بے حسی اور سیاسی مداخلت کے باعث غیر فعال ہوچکے ہیں۔ صوبے کے عوام خود کو غیر محفوظ اور لاوارث تصور کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کی نااہلی اور صوبے کے مسائل پر عدم توجہی کا یہ عالم ہے کہ وہ بنیادی آئینی ذمہ داری، یعنی جان و مال کا تحفظ، نبھانے میں بھی ناکام ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر ننھے مصور خان کاکڑ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور صوبے بھر میں امن و امان کی مخدوش صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اور عملی اقدامات کرے۔ اغوا برائے تاوان کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پایا جائے، مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ بصورت دیگر، جمعیت علماء اسلام اپنے آئینی اور جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے عوام کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔ عوام کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

