پنجگور (نامہ نگار) پنجگور سے گزشتہ روز اغواء کے بعد قتل ہونے والے نوجوان ذیشان ظہیر کے قتل کے خلاف پنجگور کے علاقے خداباداں مواچھ بازار میں احتجاجی ریلی نکالی گئی احتجاجی ریلی لالہ عبد الرحیم چوک سے شروع ہوا احتجاجی ریلی خداباداں کے مین روڈ سے ہوتے ہوئے پُرامن طور پر منتشر ہوگیا۔ احتجاجی ریلی کی کال بی وائی سی پنجگور نے دی تھی احتجاجی ریلی کے شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں زیشان ظہیر بلوچ کی بہیمانہ قتل کی شدید مزمت کی گئی زیشان ظہیر بلوچ فیملی کے اکلوتا سہارہ تھا جو گزشتہ دس سال سے اپنے لاپتہ والد ظہیر بلوچ کی بازیابی کیلئے سرگرم عمل تھا مگر زیشان ظہیر بلوچ اپنے والد کو بازیاب نہیں کرسکے مگر خود ظالموں کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار کر شہید ہوگئے ریلی کے شرکاء نے قاتلوں کی گرفتاری اور فیملی کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ زیشان ظہیر کی شہادت ایک بہیمانہ قتل اور درد ناک عمل ہے جو کسی بھی سطح پر ناقابل برداشت عمل ہے لاپتہ افراد کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے انکی فیملی اور آواز بلند کرنے والوں کو شہید اور زندان میں ڈال کر انسانی حقوق کی شدید پائمالی کی جارہی ہے

