لسبیلہ میں ممنوعہ جالوں سے مچھلیوں کی نسل کشی جاری، محکمہ فشریز کی مبینہ چشم پوشی

لسبیلہ(رپورٹ بیوروچیف حفیظ دانش)لسبیلہ کے علاقوں ڈام سمندر میں مچھلیوں کی نسل کشی تیزی سے جاری، محکمہ فشریز کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے پابندی کے باوجود گنجہ وارنیٹ اور دیگر ممنوعہ جال کے استعمال کا سلسلہ نہ رک سکا۔ باخبر ذرائع کے مطابق، مچھلیوں کے افزائش نسل کے موسم میں بھی بڑے پیمانے پر یہ غیر قانونی جال استعمال کیے جا رہے ہیں، جو چھوٹی بڑی تمام اقسام کی مچھلیوں کو ختم کر رہے ہیں ماہی گیر برادری اور عوامی حلقے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ چند مہینوں میں سمندر مچھلیوں سے خالی ہو جائے گا، جس سے نہ صرف ماحولیاتی تباہی ہوگی بلکہ ہزاروں افراد کے روزگار پر بھی اثر پڑے گا زرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ محکمہ فشریز کے بعض کرپٹ افسران کی چشم پوشی یا مکمل ملی بھگت سے ہو رہا ہے، جو ذاتی مفاد کے لیے ماہی گیری کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے ہیں لسبیلہ کے عوامی حلقوں نے صوبائی وزیر فشریز اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیا جائے، ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور سمندری حیات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں