پشین (این این آئی) پشین شہر اور مضافاتی علاقوں میں واپڈا کی جانب سے طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق روزانہ کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے، جس نے شہریوں کی زندگی مفلوج کر کے رکھ دی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور اس پر بجلی کی بار بار بندش ان کے لیے دوہری مصیبت بن گئی ہے۔ گھروں میں پنکھے، کولر اور ایئرکنڈیشنر بند ہونے کے باعث بچوں، بزرگوں اور مریضوں کی حالت غیر ہونے لگی ہے۔ متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی بھی بجلی پر منحصر ہے، جس کے باعث پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔تاجروں اور دکانداروں نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ بجلی کی بندش کے باعث مارکیٹوں میں خریداروں کی آمد کم ہو گئی ہے، جبکہ تجارت اور دیگر کاروبار تقریباً ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔ کئی دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ کرایے، بجلی کے بھاری بلز اور ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔شہری حلقوں نے حکومت اور واپڈا حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پشین شہر میں بجلی کی طلب اور فراہمی میں توازن پیدا کیا جائے اور شیڈول کے مطابق لوڈ شیڈنگ کی جائے تاکہ عوام کو کم از کم پیشگی اطلاع ہو اور وہ اپنے معمولات زندگی کو اس کے مطابق ترتیب دے سکیں۔عوامی اور سماجی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش نے شہریوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے اور ان کے روزگار کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔دوسری جانب واپڈا ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی کمی اور سسٹم پر دباؤ کے باعث لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، تاہم کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام کو کم سے کم تکلیف دی جائے۔ لیکن عوامی حلقے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

