حکومتی سطح پر کسی بھی قسم کی چال بازی یا غیر منصفانہ کارروائی کو صوبہ بھر کی جمہوری و قانونی جدوجہد کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا، جمعیت علماء اسلام بلوچستان

کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلسِ عاملہ اور پارلیمانی گروپ کا مشترکہ اجلاس صوبائی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبے کے سیاسی و انتظامی امور کے ساتھ مدارسِ دینیہ سے متعلق معاملات پر مفصل اور سنجیدہ غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا ہمہ پہلو جائزہ لیا گیا. تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی پر مفصل غور و خوض کیا گیا اور اجلاس میں بعض ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔مدارس کی رجسٹریشن اور متعلقہ ضابطہ جاتی تقاضوں کے باب میں، اجلاس نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے میں پاس کرائے گئے قانون سے ہٹ کرکے ماورائے قانون اقدامات، مدارس رجسٹریشن پر بلاجواز قدغنوں اور غیر ضروری کاغذی رکاوٹوں کی سخت مذمت کی۔ اس امر پر اتفاقِ رائے ہوا کہ مدارسِ دینیہ کے آئینی و قانونی حقوق، انتظامی خودمختاری اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کے تحفظ کے لیے ہر دستیاب آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ صوبائی جماعت نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام مدارس کے مسئلے پر کسی مرحلے پر بھی لاتعلق یا خاموش نہیں رہے گی؛ ضرورت پڑنے پر قانونی چارہ جوئی اور پرامن جمہوری احتجاج سمیت عوامی طاقت کا منظم اور ذمہ دارانہ مظاہرہ کیا جائے گا۔اجلاس میں مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے چھبیسویں آئینی ترمیم سے ماورا اقدامات کے تحت مدارس کی رجسٹریشن میں بے جا رکاوٹیں ڈالنے اور ان کی رجسٹریشن کے معاملات میں مدارس کی انتظامیہ کے لئے مشکلات پیدا کرنے سمیت مدارس کے دیگر اہم مسائل پر مفصل بحث مباحثہ کیا گیا۔تنظیمی امور کے حوالے سے بھی سیرحاصل گفتگو کی گئی اور جماعت کی ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے اصولی فیصلے کیے گئے جن میں تنظیمی ڈھانچے کی فعالیت،اضلاع و تحصیل سطح پر رابطہ کاری کی بہتری، میڈیا و کمیونیکیشن حکمتِ عملی کی اپ گریڈیشن اور عوامی مسائل کے فوری ازالے کے لیے موثر فالو اَپ میکانزم شامل ہیں۔ اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے عوام کے حقوق، مذہبی و تعلیمی اداروں کی آزادی اور قانون کی بالادستی کے لیے ہر سطح پر بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ، صوبائی سرپرستِ اعلیٰ مولانا حافظ محمد یوسف، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، صوبائی سرپرست اعلی مولانا نذر محمد حقانی صاحب، نائب امیر مولانا سرور ندیم، صوبائی نائب امیر مولانا کمال الدین، صوبائی ترجمان حاجی دلاور خان کاکڑ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین حاجی اصغر خان ترین، ایم این اے میر عثمان بادینی، حافظ حسین احمد شرودی، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی نواز خان کاکڑ، حاجی غوث اللہ اچکزئی، ایم پی اے ڈاکٹر نواز خان کاکڑ، ایم پی اے سید ظفر آغا، ایم پی اے غلام دستگیر بادینی، ایم پی اے میر زابد یکی، حاجی واحد آغا، حاجی منظور مینگل، حاجی عین اللہ شمس، جے ٹی آئی کے عبدالمنان اور دیگر ذمہ داران شامل تھے۔جمعیت علماء اسلام بلوچستان نے بالاتفاق واضح کیا کہ عوامی اعتماد، آئین و قانون کی پاسداری، اور مدارسِ دینیہ کے جائز حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور حکومتی سطح پر کسی بھی قسم کی چال بازی یا غیر منصفانہ کارروائی کو صوبہ بھر کی جمہوری و قانونی جدوجہد کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں