کراچی میں پانی کا بحران، واٹر کارپوریشن مافیا کے شکنجے میں

کراچی (ایم پی پی میڈیا سیل) کراچی آرگنائزنگ کمیٹی ایم پی پی (میری پہچان پاکستان) نے کراچی میں پانیکے شدید بحران پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے عوام پانی کی بوند بوندکو ترس رہے ہیں۔واٹر کارپوریشن میں کرپٹ اور مافیا افسران کا راج ہے۔ پانی کی چوری میں ملوث مافیا کی سرپرستی ڈھکی چھپی نہیں ب۔ بیڈ گورننس نے اداروں کو تباہ کردیا۔ عوام کے ضبط کا امتحان نہ لیا جائے۔ پانی کی فراہمی درست کی جائے۔گراس روٹ لیول سے مافیاز اور انکے سہولت کار افسران و ملازمین والو مین کی اسکریننگ اور شفافیت کے لئے گڈ گورننس کی ضرورت ہے۔ چیئرمین واٹر کارپوریشن یقینی بنائیں کہ شہر میں ہر علاقے میں پانی کی فراہمی ہو۔ انہوں نے 2023میں چارج سنبھالنے کے بعد پانی کے بل میں سو فیصد اضافہ تو کردیا لیکن پانی کی فراہمی ندارد کردی گئی۔ جن علاقوں میں پانی کا بحران نہیں تھا اب وہاں بھی پانی نہیں آرہا۔ ٹاؤن انتظامیہ بھی اس میں ملوث ہے۔ عوام یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ 2023سے متعدد غیر قانونی ہائیڈرینٹس ختم کرنے کے باوجود پانی کہاں جا رہا ہے؟ الٹا عوام کو ٹینکرز دگنی تگنی قیمتوں پر پانی دے رہے ہیں جس سے چین آف کمانڈ ادارے کے بجائے مافیاز کے پاس جانے کا تاثر ملتا ہے۔۔ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے اور گڈ گورننس کو یقینی بنایا جائے مافیاز جنکی سرپرستی سرکاری سطح پر ہو رہی ہے بند کرائی جائے۔ ٹینکرز مافیا کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ جنگی بنیادوں پر پانی کی فراہمی معمول پر لائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں