دالبندین(این این آئی)دالبندین اور اس کے گردونواح علاقوں میں آوارہ اور پالتو کتوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ گرمیوں کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد اسکولز اور مدرسے کھل گئے ہیں، تاہم صبح و شام اسکول اور مدرسوں جانے والے طلباء و طالبات، خواتین اور راہگیروں کو ان کتوں کے باعث شدید خدشات لاحق ہیں۔ شہریوں نے بتایا کہ نمازوں کے اوقات میں مسجد جانے والے نمازی بھی ان کتوں سے خوفزدہ رہتے ہیں جبکہ رات کے وقت اور صبح سویرے گھروں سے نکلنے والوں کے لیے بھی یہ کتوں کا ہجوم بڑا خطرہ بن چکا ہے۔شہریوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ماضی میں کئی بچے اور بچیاں آوارہ کتوں کے حملے سے زخمی ہوچکے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے حادثے کا خدشہ ہے۔دالبندین کے مختلف محلوں اور کلیوں، جن میں کلی قاسم خان، فصل کالونی، کلی سورگل، ظہور کالونی، کلی خداے رحیم، کلی رسول بخش، کلی ہاشم خان، کلی خان جان، کلی کوئی خان سمیت گردونواح کے مضافاتی علاقے شامل ہیں، میں آوارہ کتوں کی بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر گلی اور محلے میں درجنوں کی تعداد میں کتے موجود ہیں اور مجموعی طور پر یہ تعداد کئی تعداد میں پہنچ چکی ہے، جس سے عوامی زندگی شدید متاثر ہورہی ہیعوامی حلقوں نے میونسپل کمیٹی دالبندین کے چیئرمین میر فیصل خان نوتیزئی سے فوری اپیل کی ہے کہ ٹاؤن کمیٹی دالبندین کے تعاون سے مؤثر کتا مار مہم شروع کی جائے تاکہ شہری سکون و اطمینان کے ساتھ اپنی روزمرہ زندگی بسر کرسکیں۔

