مستونگ اسٹریٹ کرائمز کا گڑھ بن چکاہے لوگوں کی جان و مال کو کوئی تحفظ نہیں ہندومحلہ کمیونٹی روز لٹ جاتی ہے، حکومتی ادارے تماشائی کاکردارادا کررہے ہیں، اسلم بلوچ

کوئٹہ(این این آئی) نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اسلم بلوچ نے کہاہے کہ مستونگ اسٹریٹ کرائمز کا آماجگاہ بن چکا ہے امن امان کی صورتحال دیگرگوں ہونے کے بعد اب چوری ڈکیتی اسٹریٹ کرائمز روز کا معمول بن گئے ہیں سرکار نام کی کوئی چیز یا ادارہ موجود نہیں چوروں ڈاکوؤں اور موبائل چھیننے والے گروہ نے ہندو محلہ میں تو ڈھیرہ ڈال کر بیٹھا ہے ہندو کاروباری لوگ اور ان کے نوجوان گھر سے نکلتے ہی موبائل فون اور نقدی سے محروم ہوجاتے ہیں،ڈاکوؤں کے گروہ بازار کے اندر ایسے واردات کرکے نکلتے ہیں جیسے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ان کے ساتھ مضبوط رشتہ و تعلق ہو، تمام ادارے اپنا کام چھوڑ کر غیرضروری و غیرنصابی سرگرمیوں میں لگے ہوئے ہیں کوئی ایسا دن نہیں کہ چوری ڈکیتی کا کوئی واردات نہ ہو مگر تاحال ایک چور بھی نہیں پکڑا جاسکا اس سے یہ اندازہ لگانا درست ہے کہ سرکار اور اس کے ادارے لوگوں کے جان ومال کے تحفظ میں مکمل ناکام ہوگئے ہیں اور ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اگر نوٹس نہیں لیا گیا تو لوگ مجبور ہوکر انتظامیہ اور پولیس کے خلاف سڑکوں پر نکلیں کے، اسلم بلوچ نے نیشنل پارٹی کی ضلعی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں طلبا تنظیموں، وکلا برادی، ہندوپنچایت، بازار یونین، صحافیوں اور ملازمین یونینز سے مل کر بھر احتجاجی تحریک کا آغاز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں