کوئٹہ (این این آئی) امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبد الوا سع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان اس وقت شدید مایوسی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ امن و امان کی بگڑتی صورتحال، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور حکومتی بے حسی نے نوجوانوں کے خوابوں اور امیدوں کو مجروح کر دیا ہے۔ یہ ایک سنگین المیہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نوجوان روزگار سے محروم ہیں اور بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا سب سے بڑا سرمایہ اور حقیقی طاقت ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ بلوچستان میں انہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان اپنی قابلیت اور صلاحیت کے باوجود اپنے اس پیشہ ورانہ صلاحتوں کو ملک اور صوبے کیلئے مثبت انداز میں بروے کار لانے سے محروم ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ بحران مزید سنگین اور ناقابلِ برداشت ہو جائے گا۔کیونکہ سالانہ ملک بھر کے جامعات سے اور بیرون ملک سے ہزاروں نوجوان فارغ ہورہے ہیں۔جے یو آئی قیادت نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل محض رسمی بیانات یا وقتی اعلانات سے حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لئے غیر معمولی فیصلے، ٹھوس اقدامات اور ایک جامع پالیسی درکار ہے۔ حکومت وقت کو چاہئے کہ امن و امان کے قیام کو اولین ترجیح دے، نوجوانوں کے لئے فوری اور پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرے، اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت کے اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالے اور نوجوانوں کو پالیسی سازی میں شامل کرے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلوں میں براہ راست شریک ہوں۔ صوبے کے وسائل پر مقامی عوام کا حق تسلیم کیا جائے اور ان وسائل کو صوبے کی ترقی اور عوامی بہبود پر خرچ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بار بار پرانے اور ناکام طریقے اپنانے سے معاملات مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو رہے ہیں۔ اگر روش نہ بدلی گئی تو نہ صرف نوجوان نسل مزید مایوسی کا شکار ہوگی بلکہ صوبے کا مستقبل بھی تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ اس حوالے سے انہوں نے موجودہ حکومت کی طرزِ حکمرانی پر سوال اٹھایا کہ کیا واقعی یہ حکومت بدانتظامی (Bad Governance) کو موجودہ بحرانوں کی اصل وجہ تصور کرتی ہے؟ اگر ہاں، تو کیا اس کی گورننس پہلے سے بہتر ہے؟ کیا یہ حکومت واقعی بہتری کی طرف گامزن ہے یا ماضی کی طرح محض بیانات اور اعلانات پر اکتفا کر رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب تک حکمرانی کے انداز میں بنیادی اور عملی تبدیلی نہیں آتی، حالات میں بہتری کے آثار پیدا نہیں ہوں گے۔جے یو آئی قیادت نے واضح کیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے کے نوجوانوں کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن ان کی محنت اور قربانیوں کا صلہ روزگار، عزتِ رائے اور قومی شمولیت کی صورت میں ملنا چاہیے۔ جمعیت علماء اسلام سمجھتی ہے کہ جب تک بلوچستان کے نوجوانوں کو اپنائیت کا احساس نہیں دلایا جاتا اور عوامی نمائندہ حکومت حقیقی معنوں میں تشکیل نہیں دی جاتی، بحرانوں کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام صوبے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں اپنی مثبت اور تعمیری جدوجہد جاری رکھے گی۔ نوجوانوں کے حقوق، عزت اور مستقبل کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- سب سے بڑی مردم شماری: انڈیا میں ایک ارب سے زائد افراد کا شمار کیسے ہو گا؟
- ہسپتال میں تمام ایمرجنسی سروسز بلا تعطل 24 گھنٹے جاری ہیں،ترجمان سول ہسپتال کوئٹہ
- صحبت پور کے قریب ایک گھر میں آگ لگنے سے مال مویشی موٹر سائیکل نقدی زیورات اور اناج گھریلو سامان جل کر خاکستر
- تمبو،ڈیرہ مراد جمالی اور ڈیرہ بگٹی مختلف واقعات فائرنگ سے خاتون جاں بحق جبکہ ایک بچے سمیت دو افراد زخمی
- عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے 1139کے قریب پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر
- خضدار میں ایکسائز کی کاروائی 20 کلوگرام چرس برآمد کر لی
- اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی جانب سے صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ
- بارکھان سمیت پسماندہ علاقوں کی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
- ‘پاکستان چائنا انویسٹمنٹ سیمینار 2026” محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ یہ نئی معاشی ترقی اور تبدیلی کا آغاز ہے، گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل
- نقل مافیا کے خلاف سخت ایکشن، سندھ حکومت نےبڑا فیصلہ کر لیا

