مکوآنہ(این این آئی)برصغیر کی معروف گلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں کے مداح ان کا99واں یوم پیدائش 21 ستمبر کو منائیں گے اس سلسلے میں سالگرہ تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔ملکہ ترنم نور جہاں 21ستمبر1926 کوقصورمیں پیدا ہوئیں۔نور جہاں کا اصل نام اللہ وسائی تھا، اپنے فن اورمحبت کی بنا پر لوگوں نے انہیں ملکہ ترنم کا خطاب دیانورجہاں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز 1935 میں بطورچائلڈ اسٹارفلم پنڈ دی کڑیاں سے کیا جس کے بعد انمول گھڑی،ہیرسیال اور سسی پنو جیسی مشہور فلموں میں اداکاری کے جوہر آزمائے۔1941 میں موسیقار غلام حیدر نے انہیں اپنی فلم خزانچی میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا۔ 1941 میں ہی بمبئی میں بننے والی فلم خاندان ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے فلم چن وے سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کی ہدایات بھی انہی نے دی تھی۔ بطور اداکارہ ان کی دیگر فلموں میں گلنار، دوپٹہ، پاٹے خان، لخت جگر، انتظار،نیند، کوئل، چھومنتر، انار کلی اور مرزا غالب کے نام شامل ہیں۔یک ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 995 فلموں کے لئے نغمات ریکارڈ کروائے جن میں آخری فلم گھبرو پنجاب دا تھی جو 2000میں ریلیز ہوئی تھی۔ملکہ ترنم نور جہاں نے مجموعی طور پر10ہزار سے زیادہ غزلیں اور گیت گائے،میڈم نورجہاں الفاظ کی ادائیگی اور سر کے اتار چڑھا ؤمیں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں،یہی وجہ تھی کہ بھارت کی مشہور گلوکاروں نے بھی ان کے فن کو خوب سراہا، گلیمر کی دنیا سے لے کر جنگ کے محاذ تک ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنی آواز کے سحر سے سب کو اپنی آواز کے سحر میں جکڑے رکھا۔انہوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران قومی نغمے بھی گائے جو ہماری قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔حکومت پاکستان نے انکی خدمات کو سراہتے ہوئے صدارتی تمغہ برائے حسن کارگردگی اور نشان امتیاز سے نوازا۔ملکہ ترنم نور جہاں 23دسمبر 2000 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔

