کوئٹہ (این این آئی) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے زیراہتمام اساتذہ اور ملازمین کے مختلف مسائل کے حل کے لیے جاری احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کے لائحہ عمل کے حوالے سے ایک اہم اجلاس زیرِ صدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ منعقد ہوا۔ اجلاس میں نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، پریس سیکرٹری پروفیسر رحمت اللہ اچکزئی، ڈاکٹر محب اللہ کاکڑ، ڈاکٹر گل محمد بلوچ اور فرحانہ عمر مگسی نے شرکت کی۔اجلاس میں منظور شدہ اپ گریڈیشن کی عدم فراہمی، اساتذہ کی خالی آسامیوں کی عدم تشہیر، اور منظور شدہ الاؤنسز میں غیرقانونی کٹوتیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کی پینشنز اور دیگر واجبات کی بروقت اور مکمل ادائیگی میں مسلسل تاخیر پر بھی سخت ناراضگی ظاہر کی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کامیاب “ہفتہسیاہ” کے بعد احتجاج کے اگلے مرحلے کے طور پر بروز بدھ 8 اکتوبر اور جمعرات 9 اکتوبر کو جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے سامنے دن 12 بجے احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا اور بھرپور مظاہرہ کیا جائے گا۔ مزید کہا گیا کہ اگر جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ ہفتے سے احتجاج کو مزید سخت کیا جائے گا۔اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی کابینہ نے تمام اساتذہ، ملازمین، اور ایمپلائیز اور آفیسر ایسوسی ایشنز کی قیادت و اراکین سے اس احتجاجی کیمپ اور مظاہرے میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی افسوس اور غصے کا اظہار کیا گیا کہ صوبائی سول سیکرٹریٹ کے افسران اور خود ساختہ کنسلٹنٹس اپنے لیے تو بے شمار الاؤنسز اور مراعات حاصل کر رہے ہیں، جبکہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین کے محدود مگر منظور شدہ الاؤنسز کو ایک کے بعد ایک ختم کیا جا رہا ہے۔ اس پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ وائس چانسلر جامعہ بلوچستان نے نہ صرف اس غیرمنصفانہ رویے پر عملدرآمد کیا بلکہ جامعہ کی خودمختاری پر بھی سمجھوتہ کیا۔مزید کہا گیا کہ جامعہ کی سینڈیکیٹ سے منظور شدہ اپ گریڈیشن تاحال نہیں دی گئی، اساتذہ کی خالی آسامیوں کی تشہیر روک دی گئی ہے، اور بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ سو سے زائد ریٹائرڈ اساتذہ و ملازمین کو اب تک پینشن کنٹریبیوشن اور بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی گئی۔اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ جامعہ کی متعدد اہم انتظامی پوزیشنوں پر من پسند افراد کو ڈبل چارج دیا گیا ہے اور ڈینز کی تعیناتیوں میں مروجہ اصول و ضوابط کو نظرانداز کیا گیا ہے، جس سے ادارے کی شفافیت اور انتظامی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- آٹے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ تشویشناک، غریب عوام دو وقت کی روٹی سے محروم ہو رہے ہیں،جے یوآئی
- بلوچستان پولیس کے افسران اور جوان دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں،سید جہانگیرشاہ
- غربت اور بیروزگاری صوبے کی معاشی ترقی، سماجی خوشحالی اور نوجوانوں کے مستقبل کیلئے بڑے چیلنجز ہیں،جعفرخان مندوخیل
- بلوچستان کے تین اضلاع میں مجموعی طور پر8 دہشتگردوں کا خاتمہ اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی دہشتگردی کے خلاف اہم کامیابیاں ہیں،بابر یوسفزئی
- وزیراعلیٰ بلوچستان کا کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں کارروائیوں کے دوران 8 دہشت گردوں کے خاتمے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
- کوئٹہ کی باہمت بیٹی نے معذوری کو شکست دے کر خواتین کیلئے مثال قائم کر دی
- ہم پاکستان میں ایسا عادلانہ نظام چاہتے ہیں جس میں ہر شہری کو حقوق، انصاف اور تعلیم کے یکساں مواقع میسر ہوں،مولاناہدایت الرحمن بلوچ
- جمعیت مولانا فضل الرحمن کیخلاف الزام تراشی اور کردار کشی کو سرکاری نمائندوں کی نوکریاں پکی کرنے کا آسان ذریعہ بنا دیا گیا ہے، سینیٹر مولانا عبدالواسع
- سعودی عرب کے علاقے نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، عملے کے 2 ارکان ہلاک
- ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ

