مہنگائی کا طوفان۔۔۔۔عوام پریشان

تحریر:سردار محمدریاض
پاکستان ایک طویل عرصے سے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کی زد میں ہے مگر حالیہ برسوں میں مہنگائی کی شدت نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روزمرہ کے اخراجات سے لے کر بنیادی ضروریاتِ زندگی تک ہر شے کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ متوسط طبقہ، جو کبھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا آج کچلے ہوئے طبقات کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔ غریب آدمی کا چولہا ٹھنڈا ہے۔ بچوں کی تعلیم خواب بن چکی ہے اور صحت کی سہولیات ایک نایاب نعمت بن گئی ہیں۔بازاروں کا حال یہ ہے کہ سبزی، دال، گوشت، دودھ، آٹا، چینی جیسی بنیادی اشیاء بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔ ہر ہفتے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے مگر آمدنی وہی کی وہی۔ تنخواہ دار طبقے کی حالت تو مزید ناگفتہ بہ ہے۔ جو لوگ پہلے مہینے کے آخر تک کسی نہ کسی طرح گزارا کر لیتے تھے وہ اب مہینے کے وسط تک ہی معاشی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ غریب اور محنت کش طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور جو روز کما کر شام کو بچوں کے لیے روٹی لے جاتا تھا، اب خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں حکومتی ناقص پالیسیاں، کرپشن، روپے کی قدر میں کمی، اور درآمدات پر انحصار شامل ہے۔ جب ایک ملک اپنی ضروریات کے لیے بیرونی منڈیوں کا محتاج ہو جائے تو مہنگائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال درپیش ہے۔ زراعت جو کبھی اس ملک کی معیشت کا ستون تھی اب زبوں حالی کا شکار ہے۔ کسان کو اس کی فصل کا جائز دام نہیں ملتا جبکہ صارف کو وہی اجناس کئی گنا زیادہ قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکمران طبقہ اپنی عیش و عشرت میں مصروف ہے۔ ان کے اخراجات، سہولیات اور پروٹوکول میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وزیروں، مشیروں اور بیوروکریسی کے لیے تنخواہیں، الاوئنسز اور مراعات بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ عوام کو قربانی، صبر، اور حب الوطنی کے بھاشن دیے جا رہے ہیں۔ جب حکمران خود کفایت شعاری کی مثال نہ بنیں تو عوام سے قربانی کی امید رکھنا بے معنی ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہر حکومت نے عوام کو خوشحالی کے خواب دکھائے مگر حقیقت میں ان کے مسائل میں اضافہ ہی ہوا۔ جمہوریت کے نام پر اقتدار میں آنے والے ہوں یا آمریت کے دعویدار، کسی نے بھی عوامی فلاح کو اپنی ترجیح نہیں بنایا۔ اقتدار میں آتے ہی سیاسی وفاداریاں تبدیل ہو جاتیں ہیں۔ وعدے فراموش کر دیے جاتے ہیں اور پالیسیوں میں عوام کی بجائے مخصوص طبقوں کو فائدہ پہنچایا جاتاہے۔ مہنگائی ایک ایسا عفریت بن چکی ہے جسے کوئی قابو کرنے کو کوئی تیار نہیں اورنہ ہی اہل نظر آتا ہے۔دوسری جانب اداروں کی بے حسی بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ کوئی قیمتوں پر کنٹرول کرنے والا نہیں، کوئی ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے والا نہیں۔ ہر چیز خودکار نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں صرف کاغذوں میں فعال ہیں جبکہ عملی طور پر بازار میں لاقانونیت کا راج ہے۔ عوام کو نہ ریلیف مل رہا ہے، نہ انصاف، نہ روزگار، اور نہ ہی تحفظ۔اس تمام تر صورتحال کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے۔ تعلیم مہنگی ہو چکی ہے۔روزگار کے مواقع ناپید ہیں اور جو تھوڑے بہت روزگار دستیاب ہیں وہ یا تو سفارش کی بنیاد پر ملتے ہیں یا پھر اتنی کم اجرت پر کہ گزارا ممکن نہیں۔ ایسے حالات میں نوجوان یا تو جرائم کی دنیا کا رخ کرتے ہیں یا پھر بیرون ملک جانے کے خواب میں اپنی جمع پونجی لٹا دیتے ہیں۔ یہ ہنر مند، پڑھے لکھے نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں مگر انہیں موقع نہ دینا ایک قومی سانحہ ہے۔مسائل کے حل کے لیے سب سے پہلے دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے۔ ہمیں ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو مقامی پیداوار کو فروغ دیں۔ زراعت اور صنعت کو مضبوط بنائیں۔تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کو بڑھائیں اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو شفافیت، احتساب اور میرٹ پر مبنی ہو۔ اس وقت ملک کو وقتی ریلیف کی نہیں بلکہ ایک جامع، مستقل اور طویل المدتی معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ مہنگائی پر صرف شور مچانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا جب تک ہم بطور قوم اپنی ترجیحات کا تعین نہ کریں، فضول خرچی کو ترک نہ کریں اور اپنے وسائل کا درست استعمال نہ کریں۔ ہمیں ایسے نمائندے منتخب کرنا ہوں گے جو ہمارے مسائل کو سمجھیں۔ ان کا ادراک رکھیں اوران میں انہیں حل کرنے کی صلاحیت بھی ہو۔مہنگائی کا یہ طوفان وقتی نہیں لگتابلکہ یہ ایک ایسا سلسلہ بن چکا ہے جو ہر سال نئی شدت کے ساتھ آتا ہے۔ اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف معیشت کو تباہ کر دے گا بلکہ سماجی انتشار کو بھی جنم دے گا۔ جرائم میں اضافہ، ذہنی دباؤ، خودکشیاں، اور معاشرتی اقدار کا زوال اس مہنگائی کی ہی پیداوار ہیں اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تووہ وقت بہت دور نہیں جب یہ بحران ناقابلِ واپسی شکل اختیار کر لے گا۔ملک کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے محض بیانات یا اعلانات کافی نہیں۔ عملی اقدامات، نیک نیتی، اور سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ عوام کی حالت سدھارنے کے لیے ان کی آواز کو سننا ہوگا، ان کے دکھ کو محسوس کرنا ہوگا اور ان کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار صرف مراعات کا نہیں، بلکہ ذمہ داریوں کا نام بھی ہے۔ جب تک یہ احساس بیدار نہیں ہوتا، پاکستان کے عوام اسی طرح مہنگائی کے طوفان میں ڈوبتے رہیں گے اور حکمران محلات میں بیٹھے بے حسی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں