پسنی ( این این آئی)پسنی میں حالیہ دنوں دو مقامی فریقین کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع پر ایم پی اے ہدایت الرحمن کی جانب سے جو یک طرفہ اور جانبدارانہ فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ نہ صرف انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ علاقے میں کشیدگی کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے
ہم واضح کرتے ہیں کہ جب فریقین کے مابین کوئی حساس معاملہ یا تنازع جنم لیتا ہے تو ایک عوامی نمائندے کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دونوں جانب کی بات سنے، غیر جانبدار رہ کر ایک متفقہ اور باہمی رضا مندی سے مسئلے کا حل تلاش کرے۔ مگر بدقسمتی سے ہدایت الرحمن نے اپنی سیاسی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند سرکاری افسران کے ساتھ پرس کانفرنس کرکے یک طرفہ اور مسلّط شدہ فیصلہ عوام پر تھوپنے کی کوشش کی، جس کے ردعمل میں ماں بہنوں نے سراپا احتجاج بن کر اپنی آواز بلند کی متاثرہ فریقین کا کہنا ہے کہ ہم
اس یک طرفہ فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور اس غیر منصفانہ رویے کے خلاف
حکومت بلوچستان، وزیر اعلیٰ، وزیر یا مشیر فشریز اور دیگر متعلقہ ذمہ داران سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دونوں فریقین کے مابین ایک منصفانہ فیصلہ کریں جو قواعد وضوابط کے بر خلاف نہ ہو بلکہ انصاف پر مبنی ہو کیونکہ ہدایت الرحمان عوامی نمائندگی کے بجائے اپنے سیاسی ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے جانبدارانہ فیصلہ صادر فرمایا جس کی ہم مزمت کرتے ہیں

