کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق نے کوئٹہ کے مختلف مدارس میں دستار بندی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس کے نظام کو ٹریک سے اتارنے کی سرکاری کوششیں ناکام ہوں گی۔ وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام مدارس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک میں مساجد و مدارس کے خلاف وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ اور حکومت پنجاب کے پلیٹ فارم سے جاری منفی کوشیشیں صرف قابلِ مذمت بلکہ آئینِ پاکستان اور قراردادِ مقاصد سے کھلی بغاوت ہیں مدارس کو کمزور کرنا ریاست کو کمزور کرنے کے مترادف ہے جن اداروں نے ہمیشہ قیامِ پاکستان، استحکامِ پاکستان اور دفاعِ پاکستان میں بنیادی کردار ادا کیا، آج انہی کو نشانہ بنانا قومی بددیانتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مدارسِ دینیہ اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کے اصل محافظ، اصلاحِ معاشرہ کے مراکز اور امن و اعتدال کے سرچشمے ہیں۔ ان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا اور سازشیں واضح کرتی ہیں کہ کچھ عناصر مغربی ایجنڈے کی تکمیل اور غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی کیلئے ریاستی مشینری کو استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیاں اور بیرونی اشاروں پر کی جانے والی کارروائیاں نہ صرف پاکستان کو سفارتی تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں بلکہ ملکی امن، معاشی استحکام اور سماجی ڈھانچے کیلئے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

