خضدار (رپورٹ حبیب غلامانی) انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ خضدار، جسے بجا طور پر بلوچستان کا دل کہا جاتا ہے، آج بھی بنیادی سہولیات سے محرومی کا شکار ہے۔ پورے خطے سے ہزاروں افراد علاج کے لئے خضدار کا رخ کرتے ہیں، مگر شہر کے اندر ہی صحت کا نظام ناکارہ ہوچکا ہے۔
شہر میں نہ کڈنی اسپتال موجود ہے، نہ ہارٹ اسپتال، نہ ہی جدید ترین لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں جہاں پیچیدہ ٹیسٹ ممکن ہوسکیں۔ قابل اور ماہر ڈاکٹرز کی کمی مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ اس کے برعکس ملک کے دیگر صوبوں میں بین الاقوامی معیار کے متعدد اسپتال عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
محکمہ تعلیم کی کارکردگی مایوس کن، جدید تعلیم کا شدید فقدان
تعلیم کے میدان میں بھی خضدار شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ محکمہ تعلیم جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے۔
شہر اور دیہی علاقوں میں معیاری تعلیمی اداروں کی کمی، سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم کا فقدان، لیبز اور لائبریریز جیسی بنیادی سہولتوں کا نہ ہونا مقامی نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر رہا ہے۔ متعدد اسکولز عملاً بند پڑے ہیں جبکہ موجودہ اسکولوں میں بھی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
عوام بنیادی ضرورتوں سے محروم
خضدار کے غریب اور پسے ہوئے طبقات آج بھی صاف پانی، گیس، بہتر سڑکوں اور امن و امان جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث شہری شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
مقامی عوام کا مطالبہ
عوام نے حکومت بلوچستان، محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ خضدار کو اس کے جائز حقوق دیے جائیں، جدید اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور انفراسٹرکچر کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے، تاکہ شہر کے باسی بھی وہ سہولیات حاصل کرسکیں جو ملک کے دیگر حصوں میں موجود ہیں۔

