مولانا عبد الغفور حیدری کا اوتھل آمد پر شاندار استقبال اور دستارِ فضیلت کانفرنس میں خطاب

اوتھل(این این آئی) جمعیت علماء اسلام ضلع لسبیلہ کی ضلعی مجلسِ عاملہ اور تمام تحصیلوں کے امراء و نظماء عمومی کا ایک اہم مشترکہ اجلاس، جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری کی اوتھل آمد، اور جامعہ مدنیہ اوتھل کی سالانہ دستارِ فضیلت کانفرنس کے موقع پر فقید المثال استقبال کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا، سابق اقلیتی ایم پی اے مکھی شام لال لاسی کی بھی خصوصی شرکت، اجلاس جامعہ مدنیہ اوتھل میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد نعیم رونجھو نے کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، جس کی سعادت جے یو آئی تحصیل بیلہ کے جنرل سیکریٹری مولانا مفتی نور احمد نے حاصل کی۔اجلاس میں جے یو آئی پاکستان کے مرکزی اقلیتی رہنماء اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مکھی شام لال لاسی نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں 16 دسمبر بروز منگل کو جے یو آئی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری کی اوتھل آمد اور جامعہ مدنیہ اوتھل کی سالانہ دستارِ فضیلت کانفرنس کے موقع پر فقید المثال استقبال کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔رہنماؤں نے بتایا کہ مولانا عبد الغفور حیدری کی اوتھل آمد پر زیرو پوائنٹ اوتھل سے شاندار استقبال کیا جائے گا، جس کے بعد وہ جامعہ مدنیہ اوتھل میں منعقدہ دستارِ فضیلت کانفرنس و جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ اجلاس میں استقبال کی تیاریوں اور جلسے کی کامیابی کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں شریک رہنماؤں نے اوتھل بائی پاس کے مجوزہ منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے تجویز کردہ بائی پاس شہری آبادی کے بالکل قریب اور بعض مقامات پر اس کے درمیان سے گزر رہا ہے، جو اپنی نوعیت کا غیر مناسب اور ناقابلِ قبول فیصلہ ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ بائی پاس کو آبادی کے بیچ سے نکالنا بائی پاس کا اصل مقصد ہی ناکام بنا دے گا۔بھاری ٹریفک کی آمدورفت شہریوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز کے لیے شدید مسائل پیدا کرے گی۔ٹریفک شور، آلودگی اور حادثات کے خطرات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے میں تبدیلی سے قبل علاقے کے عوام، تاجروں، عمائدین اور سیاسی رہنماؤں سے مشاورت ضروری ہے، تاکہ فیصلہ حقیقی عوامی مفاد کے مطابق ہو۔ضلعی امیر مولانا مفتی محمد نعیم رونجھو نے واضح کیا کہ اگر متعلقہ اداروں نے عوامی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے منصوبہ موجودہ صورت میں نافذ کیا تو جمعیت علماء اسلام بھرپور احتجاج کرے گی اور ہر فورم پر عوامی حقوق کا دفاع کیا جائے گا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بائی پاس کا روٹ شہری آبادی سے باہر منتقل کیا جائے تاکہ یہ منصوبہ سہولت کا ذریعہ بنے، نہ کہ مشکلات کا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں