لورالائی (میاں محمد عامر بشیر آرائیں) لورالائی میں افغان مہاجرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ شہریوں، سماجی تنظیموں اور مقامی عمائدین نے کہا ہے کہ انتظامیہ کی کارروائیاں یکطرفہ، امتیازی اور کمزور طبقات کو نشانہ بنانے تک محدود ہو چکی ہیں۔غریب افغان مہاجرین سب سے آسان ہدف؟شہریوں کے مطابق ریڑھی بان، محنت کش، چھوٹے دکاندار، مزدور اور غریب خاندان روزانہ کی بنیاد پر پکڑ دھکڑ کا سامنا کر رہے ہیں۔متعدد خاندانوں کے مطابق انہیں راتوں رات نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔بازاروں میں سبزی فروش اور کمزور کاروباری طبقہ سب سے پہلے کارروائی کی زد میں آیا ہے۔لیکن دوسری طرف… بااثر افغان مہاجرین ابھی تک محفوظ؟شہریوں نے انکشاف کیا ہے کہ بڑے افغان کاروباری مراکز، ڈرائی پورٹ جیسے گودام، تھوک مارکیٹوں میں بیٹھے بااثر افغان تاجر بدستور سرگرم ہیں۔انہیں سیاسی پشت پناہی، بااثر مقامی شخصیات کی حمایت اور خفیہ روابط کے باعث انتظامیہ ہاتھ نہیں لگاتی۔کچھ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ “کچھ افغان تاجر تو انتظامیہ سے بہتر جان پہچان رکھتے ہیں۔ کارروائی کا خوف بھی نہیں۔”عوامی حلقوں نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ قانون کی عمل داری کے نام پر مذاق بن گئی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے“کمزوروں پر ہاتھ ڈالنا انتظامیہ کا پرانا طریقہ ہے۔ جہاں طاقتور کھڑے ہوں، وہاں کارروائی خاموش ہو جاتی ہے۔”“اگر آپریشن سکیورٹی کے لیے ضروری ہے تو سب پر یکساں ہونا چاہیے۔”انتظامیہ پر سنگین سوالات

